Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

دلیل یا سزا

Urdu book, p. 307

By Maulana Wahiduddin Khan

دلیل یا سزا قرآن ، اسلام کی سب سے زیادہ مستند کتاب (source book) ہے۔ قرآن میں کچھ ایسے جرائم کا ذکر ہے جو قرآن کے نزدیک ، قابلِ سزا جرم (punishable crime) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قرآن میں جہاں اس قسم کے جرائم کا ذکر ہے ، وہیں واضح الفاظ میں ان کی سزا کا بھی ذکر ہے۔ اس کی ایک مثال وہ جرم ہے جس کو اسلام میں ’’قذف‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی متعلق آیت یہ ہے : وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً (24:4) یعنی ، جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں ، پھر وہ چار گواہ نہ لائیں ، تو اُن کو اَسّی کوڑے مارو۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک پاک دامن عورت کی عصمت پر کوئی شخص بے ثبوت الزام لگائے تو وہ قرآن کی نظر میں ایک ایسا مجرم بن جاتا ہے جس کو عدالتی کارروائی کے بعد جسمانی سزا (physical punishment) دی جائے۔ اس معاملے میں قرآن نے جب جرم کا ذکر کیا تو اُسی وقت اس کی متعین سزا کا بھی ذکر کر دیا۔ اب دوسرے پہلو سے غور کیجئے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے زمانوں میں اللہ تعالیٰ نے ہر قوم اور ہر بستی میں لگا تار پیغمبر بھیجے (23:44)۔ قرآن مزید یہ بتاتا ہے کہ ان تمام پیغمبروں کے ساتھ اُن کے معاصرین نے وہی منفی روش شدید تر انداز میں اختیار کی جس کا ذکر قرآن کی مذکورہ آیت میں پاک دامن خواتین کی نسبت سے کیا گیا ہے۔ مثلاً قرآن میں فرمایا کہ : مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ (36:30) یعنی بندوں پر افسوس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page