Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

دلیل یا سزا

Urdu book, p. 308

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے، جو رسول بھی ان کے پاس آیا، وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔ قرآن میں دوسو سے زیادہ ایسی آیتیں ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبروں کے معاصرین نے مسلسل طور پر وہی فعل کیا جس کو آج کل ”اہانتِ رسول“ کہا جاتا ہے۔ کسی نے اپنے زمانے کے پیغمبر کو کذاب (40:24) کہا، یعنی بہت بڑا جھوٹا۔ کسی نے اپنے زمانے کے پیغمبر کو مجنون (15:6) کہا، یعنی دیوانہ۔ کسی نے اپنے زمانے کے پیغمبر کو مفتری (16:101) کہا، یعنی جھوٹ گڑھنے والا۔ کسی نے اپنے زمانے کے پیغمبر کو سفیہ (7:66) کہا، یعنی بے وقوف، احمق۔ کسی نے اپنے زمانے کے پیغمبر کا استہزا کیا (36:30)، وغیرہ۔ قرآن میں کثرت سے اس قسم کے توہین آمیز کلمات کا ذکر ہے، لیکن قرآن میں کہیں بھی یہ نہیں بتایا گیا کہ ایسے لوگوں کو کوڑے مارو یا ان کو قتل کردو، قرآن میں ایسی کسی سزا کا مطلق ذکر موجود نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر کی توہین سزا کا موضوع نہیں ہے، بلکہ وہ ڈائیلاگ کا موضوع ہے، یعنی جو شخص ”توہینِ رسالت“ کا ارتکاب کرے، اس کو جسمانی سزا نہیں دی جائے گی، بلکہ دلیل کی زبان میں اس سے ایسی بات کہی جائے گی جس سے اس کا ذہن ایڈریس ہو۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ”توہینِ رسالت“ کا ارتکاب کرنے والوں کو دلیل کی زبان میں خطاب کرکے ان کی اصلاح کی کوشش کی جائے گی، نہ کہ اُن کو قتل کرنا یا کوڑے مارنا۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: أُولَئِكَ الَّذِينَ يَعْلَمُ اللَّهُ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ وَقُلْ لَهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ قَوْلاً بَلِيغاً (46:63) یعنی اُن کے دلوں میں جو کچھ ہے، اللہ اِس سے خوب واقف ہے۔ پس تم ان سے اعراض کرو اور ان کو نصیحت کرو اور ان سے ایسی بات کہو جو اُن کے دلوں میں اتر جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page