دلیل یا سزا
Urdu book, p. 309
By Maulana Wahiduddin Khan
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کے خلاف جو لوگ منفی روش اختیار کرتے ہیں، اُن کو سزا دینا اللہ کا کام ہے، جو اُن کے دلوں کے حال کو جانتا ہے۔ تمھاری ذمے داری یہ ہے کہ تم اُن کی ایذا رسانی کو نظر انداز کرتے ہوئے اُن سے درد مندانہ نصیحت کا معاملہ کرو، تم ان کو ایسے مؤثر انداز میں نصیحت کرو جو اُن کے ذہن کو ایڈریس کرنے والی ہو۔ اس معاملے کی ایک مثال قرآن کی سورہ الغاشیہ ہے۔ اس کی متعلق آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: "کیا وہ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے پیدا کیا گیا، اور زمین کو کہ وہ کس طرح بچھائی گئی ۔ پس تم یاد دہانی کرو، تم صرف یاد دہانی کرنے والے ہو، تم اُن پر دارو غہ نہیں۔ مگر جس نے روگردانی کی اور انکار کیا، تو اللہ اس کو بڑا عذاب دے گا۔ ہماری ہی طرف ان کی واپسی ہے، پھر ہمارے ذمے ہے ان کا حساب لینا" (26-88:17)۔ قرآن کی ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا وہ اسلوب کیا ہے جس کی تلقین پیغمبر کو کی گئی تھی۔ وہ اسلوب یہ ہے کہ لوگوں کو دلائل کے ذریعے خطاب کیا جائے۔ دین کی صداقت پر ان کو عقلی طور پر مطمئن کرنے کی کوشش کی جائے۔ مخاطب کے منفی رد عمل کے باوجود دعوت کا یہی مثبت اسلوب آخر وقت تک جاری رہے گا۔ داعی کا یہ کام نہیں کہ وہ ان کے اوپر دارو غہ بن کر ان کو سزا دینے لگے۔ اس کے بعد جہاں تک سزا و جزا کا معاملہ ہے، اس کا تعلق تمام تر اللہ سے ہے۔ قیامت میں اللہ ہر ایک کو اکٹھا کرے گا اور پھر ہر ایک کے عمل کے مطابق، اس کے لیے جزا یا سزا کا فیصلہ فرمائے گا۔ اس معاملے کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ قرآن میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ جو شخص رسول کے خلاف سب وشتم کرے، اس کو ایسا کرنے سے روکو اور اگروہ نہ رکے تو اس کو سخت سزا دو۔ اس کے برعکس، قرآن میں اہل ایمان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم فریق ثانی کے خلاف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader