Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک کتاب ہے۔ اس کتاب میں ابنِ تیمیہ نے شاتمِ رسول کے لیے قتل کی سزا بتائی ہے۔ صرف اس لیے کہ فقہانے بعد کے زمانے میں یہ حکم وضع کیا کہ شاتم کو بطورِ سزا قتل کیا جائے گا (يقتل حدّا) - حالاں کہ قرآن میں اس حکم کی کوئی اصل موجود نہیں۔ ابنِ تیمیہ اگر کتبِ فقہ سے اوپر اٹھ کر اس موضوع پر قرآن کی اسپرٹ کے مطابق، اس مسئلے پر غور کرتے تو وہ لکھتے کہ شاتم کی حیثیت ایک مدعو کی ہے، شاتم کو دعوت دینا ہے، نہ کہ قتل کرنا۔ شاتم بظاہر دشمن نظر آتا ہو، تب بھی اپنی فطرت کے اعتبار سے، وہ ایک انسان ہے۔ اگر اس کے سامنے اسلام کا دین حکیمانہ انداز میں پیش کیا جائے تو عین ممکن ہے کہ وہ اسلام کی حقانیت کا اعتراف کرے اور اس کی دشمنی ، قرآن کے بیان کے مطابق، دوستی میں تبدیل ہو جائے (41:34)۔ اس طرح کی ایک مثال شاہ ولی اللہ دہلوی (وفات 1762ء) کی مشہور کتاب حجۃ اللہ البالغہ ہے۔ اس کتاب کا ٹائٹل بظاہر قرآن کی ایک آیت (6:149) سے ماخوذ ہے۔ مگر عملاً یہ کتاب قرآنی پیٹرن پر نہیں لکھی گئی ہے، بلکہ فقہی پیٹرن پر لکھی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کے تمام مباحث فقہی اسلوب پر مبنی ہیں۔ مثلاً اس کتاب میں سُترہ سے لے کر جہاد تک کے تمام ابواب موجود ہیں، لیکن اس میں دعوت الی اللہ کا باب موجود نہیں۔ حالاں کہ اگر مصنف، قرآن کے اسلوب کی چھان بین کرتے تو یقیناً وہ اس حقیقت کو دریافت کر لیتے کہ قرآن میں سب سے زیادہ اہمیت دعوت الی اللہ کو دی گئی ہے۔ قرآن پورا کا پورا ایک کتاب دعوت ہے۔ مقصدِ تخلیق اس فکری ڈی ریلیمنٹ کا سبب کیا ہے۔ اس کو اموی خلیفہ عمر بن عبد العزیز کے ایک واقعے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ان کے ایک گورنر عدی بن ارطاة نے ان کو لکھا—لوگ بڑی تعداد میں اسلام قبول کر رہے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ اس کے نتیجے میں حکومت کے مالیہ میں کمی ہو جائے گی۔ اس کا جواب خلیفہ عمر بن عبد العزیز نے ان الفاظ میں دیا: وَاللّٰہِ لَوَدِدْتُ أَنَّ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page