دلیل یا سزا
Urdu book, p. 310
By Maulana Wahiduddin Khan
سب وشتم نہ کرو۔ اس سلسلے میں قرآن کی متعلق آیت یہ ہے: وَلاَ تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدُوًّا بِغَيْرِ عِلْمٍ (6:108)۔ یعنی اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں، تم ان کو سب وشتم نہ کرو، ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی بنا پر اللہ کو سب وشتم کرنے لگیں گے۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان کا یہ کام نہیں کہ وہ میڈیا واچ (media watch) قائم کرکے ایسے لوگوں کی تلاش کریں جس نے ان کے خیال کے مطابق ، سب وشتم کا فعل کیا ہے اور پھر اس کو ہر قیمت پر قتل ڈالیں۔ اس کے برعکس، قرآن یہ تعلیم دیتا ہے کہ اہل ایمان آخری حد تک ایسی کسی روش سے بچیں جس کا نتیجہ یہ ہو کہ لوگ مشتعل ہو جائیں اور وہ دین اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف سب وشتم جیسا معاملہ کریں۔ گویا کہ قرآن کی ہدایت کے مطابق ، اس معاملے کی ذمے داری خود اہل ایمان کو اپنے اوپر لینا ہے، نہ کہ اس کو دوسروں کے اوپر ڈال کر ان کی سزا کا مطالبہ کرنا۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی روش قرآن کی تعلیم کے عین خلاف ہے۔ مسلمان یہ کر رہے ہیں کہ جب بھی کوئی شخص اُن کے خیال کے مطابق، تقریر یا تحریر کے ذریعے "اہانتِ رسول" کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ فوراً مشتعل ہو کر اس کے خلاف جلوس نکالتے ہیں اور یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اُن تمام لوگوں کی گردن مار دو جو پیغمبر کی توہین کرتے ہیں: Behead all those who insult the Prophet. جو لوگ اس قسم کے اشتعال انگیز جلوس نکالتے ہیں اور مفروضہ "مرتکبینِ اہانت" کے قتل کا مطالبہ کرتے ہیں، وہ خود سب سے بڑی اہانت کا ارتکاب کرتے رہے ہیں۔ اُن کی ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader