Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

مقصد تخلیق

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

النَّاسَ كُلَّهُمْ أُسْلِمُوا حَتَّى نَكُونَ أَنَا وَأَنْتِ حَرَّاثَيْنِ نَأْكُلُ مِنْ كَسْبِ أَيْدِينَا (سیرۃ عمر بن عبد العزيز لابن الجوزی، صفحہ 124)۔ یعنی خدا کی قسم، مجھے یہ پسند ہے کہ سارے لوگ اسلام قبول کر لیں، یہاں تک کہ میں اور تم دونوں کاشت کار بن جائیں اور اپنے ہاتھ کی محنت سے اپنا رزق حاصل کریں۔ مذکورہ واقعہ کا ایک پہلو یہ تھا کہ کثرت اسلام سے حکومت کی مالی آمدنی کم ہورہی تھی۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ پیغمبر کا اصل مشن یہی تھا کہ لوگوں کو سچائی ملے۔ خلیفہ عمر بن عبد العزیز نے دونوں پہلوؤں کو الگ کر کے دیکھا، اس لیے وہ ایک واضح اور درست رائے تک پہنچ گئے۔ اس کے برعکس، ان کے گورنر کا حال یہ تھا کہ اُس کے کلام میں مادی مفاد کی اہمیت موجود تھی لیکن اُس کے کلام میں یہ اہمیت مفقود تھی کہ لوگوں کو سچائی ملے۔ خلیفہ عمر بن عبد العزیز کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اسلام میں کس چیز کو اصل اہمیت حاصل ہے۔ وہ یہی ہے کہ اپنے اندر مومنانہ شخصیت کی تعمیر کی جائے اور دوسروں کو اللہ کا پیغام پہنچایا جائے۔ بعد کے دور میں جو فکری زوال پیدا ہوا، اس کا اصل سبب یہ تھا کہ فقہی تعبیرات کے درمیان عملاً یہ حقیقت گم ہوگئی کہ انسان کی تخلیق کا مقصد (purpose of life) کیا ہے۔ اس کو ختم کرنے کی صورت صرف یہ ہے کہ انسان کے مقصد تخلیق کو فوکس کیا جائے۔ مقصد تخلیق کے تعین کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ مسلم ملت کا ذہنی فوکس بدلے اور وہ تمام انسانوں کو دوست و دشمن اور شاتم و غیر شاتم کے اعتبار سے دیکھنے کے بجائے خدا کے تخلیقی منصوبہ کے اعتبار سے دیکھنے لگیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page