اصل مسئلہ
Urdu book, p. 323
By Maulana Wahiduddin Khan
اس تقابلی مثال پر غور کیجیے۔ ایک ہی ملک ہے۔ وہاں ” توہین پیغمبر “ کا واقعہ ہوتا ہے مگر باقاعدہ قانون کے ہوتے ہوئے بھی اس پر پابندی نہیں لگائی جاتی۔ دوسری طرف اسی ملک میں ” توہین ریاست “ کا واقعہ ہوتا ہے تو حکومت اس کے خلاف فورا سرگرم ہو جاتی ہے اور پورا ملک اس کو اپنے اندر جگہ دینے سے انکار کر دیتا ہے۔ اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ برطانیہ توہین ریاست کی اہمیت سے واقف ہے، مگر تو ہین نبوت کی اہمیت کا اسے احساس نہیں ۔ یہی وہ فرق ہے جس نے ان کے یہاں دونوں مثالوں میں فرق پیدا کر دیا ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ اس سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کا اصل مسئلہ کیا ہے۔ آج اسلام کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسلام کی عظمت و اہمیت جدید لوگوں کے ذہن سے نکل گئی ہے۔ وہ اسلام کو ایک بے قیمت اور آج کے لحاظ سے بے ضرورت چیز سمجھنے لگے ہیں۔ یہی وہ حالات ہیں جس نے لوگوں کو اسلام کے خلاف بولنے کے لیے جری کر دیا ہے۔ نہ صرف غیر مسلموں میں بلکہ خود مسلمانوں کی جدید تعلیم یافتہ نسل میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جو مذکورہ قسم کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں، چنانچہ وہ اسلام کے خلاف نہایت سطحی انداز میں لکھتے اور بولتے رہتے ہیں۔ اس وقت جڑ کا کام یہ ہے کہ اسلام کے بارے میں جدید انسان کی غلط فہمی کو دور کیا جائے ۔ اسلام کی اہمیت کو آج کے انسان کے لیے دوبارہ ایک ثابت شدہ حقیقت بنا دیا جائے ۔ اسلام کی تصویر لوگوں کی نظر میں اتنا با عظمت بنا دیا جائے کہ کوئی آدمی اس کے خلاف بولنے کی جرات نہ کر سکے ۔ اور اگر بالفرض کوئی شخص اس قسم کی نازیبا حرکت کرے تو اس کی بات ماحول کے اندر اپنے آپ میں بے وزن ہو کر رہ جائے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے آج کوئی شخص جمہوریت ( ڈیموکریسی ) کے خلاف بولے تو اس کی بات موجودہ ماحول میں اپنے آپ بے وزن ہو کر رہ جائے گی ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader