جدید اسلامی لٹریچر
Urdu book, p. 324
By Maulana Wahiduddin Khan
جدید اسلامی لٹریچر موجودہ زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ سلمان رشدی جیسے لوگ جب کوئی شر پھیلاتے ہیں تو وہ ہمارے لیے صرف شر بن کر رہ جاتا ہے، وہ ہمارے لیے خیر کی صورت اختیار نہیں کرتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے امام اور مفکر ایسے لوگوں کے سامنے اسلام کا جو تعارف پیش کر رہے ہیں وہ صرف شور و غل ہے۔ اور شور و غل آج کے انسان کو صرف متنفر کر سکتا ہے۔ وہ کسی بھی درجہ میں اس کو متاثر کرنے والا نہیں۔ ایسے مواقع پر فطری طور پر اسلام کے مطالعہ کی فضا بنتی ہے۔ لوگوں کے اندر اسلام کے بارے میں تجسُّس پیدا ہوتا ہے، وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ اسلام کو جاننے کی خواہشمند ہو جاتے ہیں۔ مگر وہ پاتے ہیں کہ موجودہ کتب خانوں میں ایسا لٹریچر موجود نہیں جو ان کی قابل فہم زبان میں اسلام کی اعلیٰ تعلیمات کو پیش کر رہا ہو۔ جس کے اندر اتنی جاذبیت ہو کہ وہ اس کو دلچسپی اور شوق کے ساتھ پڑھ سکیں۔ آج کے انسان کے ارد گرد مخالف اسلام لٹریچر کا انبار موجود ہے، مگر مؤثر اسلوب میں تیار کیا ہوا موافق اسلام لٹریچر کا کہیں وجود نہیں۔ راقم الحروف نے چالیس سال پہلے عصر حاضر کی اس ضرورت کا احساس کیا تھا۔ اس کے مطابق میں نے اسلام کا تفصیلی مطالعہ کیا، اور اسی کے ساتھ جدید علوم کو اس کے مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد میں نے عصری تقاضوں کے تحت ایسا اسلامی لٹریچر تیار کرنا شروع کیا جو آج کے انسان کے ذہن میں اسلام کی عظمت قائم کر سکے۔ میری تمام کتابیں کسی نہ کسی پہلو سے اسی خاص موضوع سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس کام میں اگر چہ مجھے ملت کا مطلوبہ تعاون حاصل نہ ہو سکا۔ تاہم اپنی حد تک میں نے اپنی پوری طاقت اسی کام میں لگا رکھی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader