Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

مثبت طریق کار

Urdu book, p. 326

By Maulana Wahiduddin Khan

مثبت طریق کار راجوری (کشمیر) سے ڈاکٹر مظفر شاہین نے اپنے ایک مفصل خط میں لکھا تھا:”جب سے سلمان رشدی کی کتاب شائع ہوئی ۔ وہ اخباروں اور رسالوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ تمام دنیائے اسلام میں عالم محشر بپا کر دیا گیا۔ حتیٰ کہ رہنماؤں کے احتجاج سے متاثر ہو کر اسلام آباد، سرینگر اور بمبئی وغیرہ میں فسادات رونما ہوئے۔ لیکن کہیں بھی کسی مسلم عالم نے اس کتاب کا عقلی اور علمی دلائل سے جواب دینے کی زحمت گوارا نہ کی۔ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ یہ کتاب دراصل ہمارے علماء کے لیے چیلنج ہے ، نہ کہ عام معنوں میں اسلام کی تذلیل۔ چنانچہ آج تک کسی مسلم عالم کی طرف سے اس کتاب کی مدلل تردید نظر سے نہیں گزری۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ اس کتاب کو پڑھ کر اس کے بیانات سے متاثر ہوئے ہوں گے، کیا ہمارا شور و غل ان کے تاثر کا علاج بن سکتا ہے۔“ اس خط کے جواب میں میں نے لکھا کہ بلاشبہ یہ بے حد اہم بات ہے۔ مگر اس کا تعلق صرف سلمان رشدی کی کتاب سے نہیں ہے بلکہ اس طرح کی تمام چیزوں سے ہے۔ مسلم رہنماؤں کا عام طریقہ یہ ہے کہ جب اس قسم کی کوئی کتاب چھپتی ہے تو وہ اس کے خلاف پرشور بیانات دیتے ہیں اور عوامی ہنگامے برپا کرتے ہیں۔ مگر اصل کتاب کا مدلل جواب نہیں دیتے۔ مجھے اس بات سے صد فی صد اتفاق ہے کہ ایسا ہر واقعہ اسلام کی اہانت سے زیادہ خود ہمارے لیے ایک چیلنج ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عرب کے مخالفین اشعار کے ذریعہ اس قسم کی توہین آمینز اور دل آزاری باتیں کرتے تھے جو موجودہ زمانہ کے مخالفین کرتے ہیں۔ مگر اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یا صحابہ کرام کا وہ ردِ عمل نہیں ہوتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page