Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

مثبت طریق کار

Urdu book, p. 327

By Maulana Wahiduddin Khan

تھا جس کا مظاہرہ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما کر رہے ہیں۔ اس کے بجائے مسلمانوں میں سے وہ لوگ کھڑے ہوتے تھے جو شعر اور خطابت کی صلاحیت رکھتے تھے۔ وہ دلائل کی زبان میں مخالفین کا جواب دیتے تھے۔ یہی اس طرح کے معاملات میں اسلامی طریقہ ہے اور یہی موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کو اختیار کرنا چاہیے۔ قدیم عرب میں خبر رسانی (communication) کا سب سے بڑا ذریعہ شاعری تھی جس خیال کو عوام تک پہنچانا مقصود ہوتا اس کو منظوم کلام کی صورت میں مرتب کر دیا جاتا تھا جو سننے والوں کو با آسانی یاد ہو جاتا تھا۔ لوگ اس منظوم کلام کو لے کر جگہ جگہ سناتے تھے۔ اس طرح وہ بات سارے عوام میں پھیل جاتی تھی۔ موجودہ زمانہ میں پریس کی ایجاد نے شاعری کی یہ اہمیت ختم کر دی ہے۔ اب خبر رسانی کا سب سے بڑا ذریعہ صحافت ہے۔ موجودہ زمانہ میں جس فکر کو عوام تک پہنچانا مقصود ہو اس کو مرتب کر کے اخبارات میں شائع کر دیا جاتا ہے۔ یہ اخبارات پریس کے ذریعہ چھپ کر کثیر تعداد میں لوگوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ دور اول کے مسلمانوں نے خبر رسانی (comunication) کے قدیم ذریعہ ( شاعری ) کو استعمال کر کے مخالفین کی باتوں کی تردید عوام تک پہنچائی تھی۔ موجودہ زمانہ میں یہی کام ہم کو اخبار (یا کتاب) کے ذریعہ کرنا چاہیے۔ مسلم رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ ایسے مواقع پر ایسا نہ کریں کہ وہ اسلام کی اہانت اور ناموس رسول پر حملہ جیسے الفاظ بول کر عوام کو بھڑک کا ئیں۔ یہ طریقہ ایک اعتبار سے بدعت ہے۔ اس سے مسلم عوام تو بھڑک جاتے ہیں مگر مخالفین کی باتوں کی تردید نہیں ہوتی۔ مخالفین کی باتیں بدستور لوگوں کو متاثر کرتی رہتی ہیں۔ اس کے بجائے مسلم رہنماؤں کو سنت کے طریقہ پر عمل کرنا چاہیے۔ یعنی اخبار کا جواب اخبار سے اور کتاب کا جواب کتاب سے دینا چاہیے۔ اور وہ بھی اسلامی اخلاق اور علمی دلائل کی روشنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page