Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu book, p. 328

By Maulana Wahiduddin Khan

میں ہو، نہ کہ سب وشتم کے انداز میں۔ مسلم رہنما اگر اس انداز پر عمل کریں تو زیادہ بہتر طور پر اسلام کی خدمت کریں گے۔ قابل تقلید نمونہ ڈاکٹر رفیق زکریا بمبئی کی ایک معروف شخصیت ہیں۔ انھوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ انھوں نے سلمان رشدی کی کتاب "شیطانی آیات" کے جواب میں ایک کتاب محمد اور قرآن (انگریزی) لکھی۔ اس کتاب کورشدی کی کتاب ہی کے پبلشر پنگوئَن بکس (Penguin Books) نے شائع کیا جس کی شاخیں امریکا، برطانیہ اور ہندوستان میں ہیں۔ یہ کتاب آج پوری دنیا میں بڑے پیمانے پر فروخت ہورہی ہے اور اللہ اور اس کے رسول کا کرم ہے کہ اس کتاب کا خود پنگوئن والوں پر اتنا زبردست اثر ہوا کہ انھوں نے معاہدہ کے باوجود رشدی کی کتاب کا پیپر بیک ایڈیشن نکالنے سے انکار کر دیا۔ (ہفت روزہ نئی دنیا، نئی دہلی، 3 اپریل 1992 ء) اس سے مثبت اندازِ کار کی غیر معمولی اثر انگیزی کا اندازہ ہوتا ہے۔ مذکورہ مثال کے مطابق، سلمان رشدی کی بیہودہ کتاب کے جواب میں اسلام پر ایک صحیح تعارفی کتاب تیار کی گئی ۔ اس کتاب کو "شیطانی آیات" کے پبلشر ہی نے اپنے یہاں سے شائع کیا اور پھر ہر جگہ اس کو پڑھا جانے لگا۔ مزید یہ کہ خود پبلشر پر اس کا اثر یہ ہوا کہ وہ شیطانی آیات کی مزید اشاعت سے باز آ گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مثبت طریقِ کار میں معجزاتی تاثیر چھپی ہوئی ہے، بشرطیکہ اس کو صحیح طور پر استعمال کیا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page