Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

خاموشی کی طاقت

Urdu book, p. 329

By Maulana Wahiduddin Khan

خاموشی کی طاقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ایک بہت بامعنی قول ہے۔ آپ نے فرمایا کہ باطل کو مارو اس کی طرف سے چپ رہ کر (امیتوا الباطل بالصمت عنہ ) حليۃ الاولیاء، جلد 1، صفحہ 55۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات شر اور باطل کے بارے میں خاموش رہ جانا اور اس کے خلاف کوئی جوابی کاروائی نہ کرنا ہی اس کو ختم کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اس صمت عن الباطل (باطل کے بارے میں خاموشی) کی مختلف صورتیں ہیں۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ کچھ لوگ محض ذاتی بغض کی بنا پر آپ کے خلاف جھوٹی باتیں پھیلاتے ہیں اور بیہودہ مضامین شائع کرتے ہیں۔ ایسے موقع پر اگر آپ ان کا جواب دیں تو آپ صرف اپنا وقت ضائع کریں گے۔ ایسی باتوں کا بہترین جواب یہ ہے کہ ان کا جواب نہ دیا جائے۔ قدیم مثل ہے کہ ”کتے بھونکتے رہتے ہیں، ہاتھی چلتا رہتا ہے۔“ آپ ”ہاتھی“ والا کردار ادا کیجیے، شرپسندوں کے چھیڑے ہوئے فتنے اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ ایک شخص آپ کے اوپر کیچڑ پھینکتا ہے۔ آپ کے گھر میں گندگی ڈال دیتا ہے۔ اب اگر آپ مشتعل ہو کر اس سے لڑنے لگیں تو آپ نے اس کے مقصد کو پورا کیا۔ آپ کی اشتعال انگیز کاروائی اس کو مزید موقع دے گی۔ وہ اپنے ساتھیوں کو جمع کر کے آپ کے خلاف مکمل فساد برپا کر دے گا۔ لیکن اگر آپ اس کی اشتعال انگیزی پر مشتعل نہ ہوں تو گویا آپ نے اس کے بم کو ناکارہ کر دیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہانے وہی بات ایک اور انداز سے فرمائی ہے کہ جس کو قرآن میں اعراض کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اعراض کا مطلب ہے اوائڈ کرنا، نظر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page