Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

خاموشی کی طاقت

Urdu book, p. 330

By Maulana Wahiduddin Khan

انداز کرنا۔ اعراض محض ایک سلبی فعل نہیں وہ ایک ایجابی کاروائی ہے۔ وہ خود ایک طاقت اور عمل ہے۔ وہ ناطق جواب کے مقابلہ میں خاموش جواب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ چپ کی طاقت بول کی طاقت سے زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مواقع ایسے ہیں جہاں نظر انداز کرنا کسی شر کو دفع کرنے کی سب سے زیادہ موثر تدبیر ہوتی ہے۔ جہاں سب سے بڑی کاروائی یہ ہوتی ہے کہ سرے سے کوئی کاروائی ہی نہ کی جائے۔ فرض کیجیے کہ ایک شخص آپ کے خلاف ایک بے ہودہ جھوٹ گھڑتا ہے اور اس کو کتاب کی صورت میں چھاپ کر بازار میں لے آتا ہے۔ اب آپ کی کامیابی کس چیز میں ہوگی۔ آپ کی کامیابی اس میں ہوگی کہ یہ کتاب لوگوں کے درمیان غیر مقبول ہو کر رہ جائے۔ کوئی اس کو حاصل کر کے پڑھنے کی ضرورت نہ سمجھے۔ یہ مقصد سب سے زیادہ خاموشی کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ اگر آپ اس کتاب کے خلاف شور وغل کریں تو اس کا اشتہار ہوگا۔ لوگ غیر ضروری طور پر اس کی طرف متوجہ ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس اگر آپ اس کی طرف سے خاموشی اختیار کر لیں تو اس کو شہرت حاصل نہ ہو سکے گی۔ اس کی کتاب اپنے آپ مر جائے گی۔ یہ زندگی کی ایسی حقیقت ہے جس کا بار بار تجربہ کیا گیا ہے اور تاریخ میں اس کو بار بار ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مثلاً انگریزی کے ایک مصنف نے اس حقیقت کو ان لفظوں میں بیان کیا_ افترا پردازی ہمیشہ مخالفت سے ترقی کرتی ہے: "Scandal ever improves by the opposition." کوئی شخص آپ کے خلاف جھوٹی تہمت لگائے تو اس کے بارے میں خاموشی اختیار کر لیجیے_ اس کے خلاف بول کر آپ اس کو پھیلائیں گے۔ اس کے بارے میں چپ رہ کر آپ عین اسی مقام پر اس کا خاتمہ کر دیں گے جہاں وہ ابتداء گھڑی گئی تھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page