Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

اصل کام

Urdu book, p. 332

By Maulana Wahiduddin Khan

مجھے بتایا گیا کہ جو مسلمان امریکا میں آباد ہیں ان کی نئی نسلوں کی بیشتر تعداد اسلام سے بالکل نا واقف ہو چکی ہے۔ ان کو نماز ، روزے سے کوئی مطلب نہیں، جنس اور شراب اور غذا کے معاملہ میں ان کے طریقے وہی ہیں جو دوسرے آزاد خیال امریکیوں کے ہیں۔ وہ بس برائے نام مسلمان ہیں۔ یہ کوئی انکشاف کی بات نہیں ۔ ہر وہ شخص جو مسلمانوں کی جدید تعلیم یافتہ نسل سے واقف ہے، وہ اس بات کو بخوبی جانتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ”رشدی“ ہمارے درمیان ایک نہیں، بلکہ کروروں کی تعداد میں ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کی ”رشدیّت“ ظاہر ہو چکی ہے اور کسی کی اب تک چھپی ہوئی ہے۔ مسلم نسل کی یہ صورتِ حال موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کے لیے ایک زبردست چیلنج ہے۔ اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ جدید سائنٹفک اسلوب اور وقت کی ترقی یافتہ زبانوں میں اعلیٰ معیار کا اسلامی لٹریچر تیار کر کے شائع کیا جائے تاکہ ”ارتدادِ ذہنی“ میں مبتلا ہونے والے ان بے شمار مسلمانوں کی بے یقینی کو دوبارہ یقین میں تبدیل کیا جا سکے ۔ ان کو بے عقیدگی کے دلدل سے نکال کر دوبارہ عقیدہ کی صالح زمین پر کھڑا کیا جائے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں میں سے کوئی ایک شخص بھی نہیں جو اس کام کو مؤثر اسلوب اور مطلوبہ معیار پر انجام دے رہا ہو۔ اپنے دعویٰ کے مطابق بہت سے لوگوں نے عصری کتابیں چھاپ رکھی ہیں مگر یہ نام نہاد عصری کتابیں عصری کوڑا خانہ سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔ راقم الحروف نے الرسالہ جولائی 1987ء میں ایک مضمون شائع کیا تھا جس کا عنوان تھا ”دورِ جدید کی تحریکیں“۔ اس مضمون میں جدید لٹریچر کی اہمیت کو بتاتے ہوئے کہا گیا تھا کہ جدید لٹریچر دورِ جدید میں اسلام کے احیاء کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ مگر کتابوں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page