اصل کام
Urdu book, p. 333
By Maulana Wahiduddin Khan
ان گنت انبار کے باوجود، یہ ضرورت ابھی غیر تکمیل شدہ حالت میں پڑی ہوئی ہے۔ حتی کہ لوگوں کے اندر اس کا حقیقی شعور بھی موجود نہیں۔ میں نے مزید لکھا تھا کہ میں اُردو، عربی، فارسی اور انگریزی میں اپنے چالیس سالہ مطالعہ کی بنا پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما کوئ ایک بھی ایسی قابل ذکر کتاب وجود میں نہ لا سکے جو جدید سائنٹفک اسلوب اور وقت کے فکری مستویٰ پر اسلامی تعلیمات کو پیش کرنے والی ہو۔ اگر بالفرض کسی صاحب کو اصرار ہو کہ ایسی کتابیں لکھی جا چکی ہیں تو میں ان سے گزارش کروں گا کہ وہ ایسی صرف ایک کتاب راقم الحروف کے پتہ پر روانہ فرمائیں۔ اس مضمون کی اشاعت پر اب کئی سال کی مدّت پوری ہو چکی ہے۔ مگر آج تک کسی مسلم ذمہ دار کی طرف سے ایسی کوئی کتاب میرے پاس نہیں بھیجی گئی۔ موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں کا اولین اور اہم ترین کام یہ تھا کہ وہ جدید علوم کو پڑھیں۔ وقت کی زبانوں کو سیکھیں۔ آج کے طریق استدلال اور اسلوب تحریر میں مہارت پیدا کریں۔ اور اس کے بعد اسلام کی ابدی تعلیمات کو مؤثر اور طاقتور انداز میں پیش کریں تاکہ آج کا انسان اور جدید مسلم نسل اس کو پڑھے اور اس کے ذریعہ سے اپنے کھوئے ہوئے عقیدہ کو دوبارہ حاصل کرے۔ مگر جدید اسلوب میں طاقتور لٹریچر وجود میں لانا تو درکنار، موجودہ مسلم رہنما قرآن کا ایک صحیح انگریزی ترجمہ بھی تیار کر کے شائع نہ کر سکے۔ ایسی حالت میں مسلم رہنماؤں کا سلمان رشدی کے خلاف ہنگامہ کرنا حقیقتاً خود اپنی نالائقی پر پردہ ڈالنے کے ہم معنی ہے۔ یہ اس کام کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرنا ہے جس کو انھوں نے سرے سے انجام ہی نہیں دیا اور قرآن کا فیصلہ ہے کہ جو لوگ کچھ کیے بغیر کریڈٹ لینا چاہیں ان کے لیے خدا کے یہاں عذاب ہے، نہ کہ انعام (3:188)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader