Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

اصل کام

Urdu book, p. 334

By Maulana Wahiduddin Khan

ہمارے لکھنے والوں نے موجودہ زمانہ میں جو اسلامی کتابیں تیار کی ہیں وہ غیر منحرف ذہن کے لیے مفید ہو سکتی ہیں۔ مگر منحرف ذہن کے لیے وہ سراسر غیر مفید ہیں۔ کیونکہ وہ منحرف ذہن کے تقاضے کو بالکل پورا نہیں کرتیں۔ ان تمام کتابوں کا یکساں طور پر یہ حال ہے جیسے ان کے لکھنے والوں کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اعتقادی استدلال کیا ہے۔ اور عقلی استدلال کیا۔ جو لوگ اس دونوں چیزوں کے فرق کو نہ جانیں وہ کبھی جدید نسل کے لیے اسلامی لٹریچر فراہم نہیں کر سکتے۔ یہ کتابیں تقریباً سب کی سب اعتقادی استدلال کے اصول پر لکھی گئی ہیں۔ اعتقادی استدلال صرف وہاں کارآمد ہوتا ہے جہاں زیر بحث مسئلہ میں دونوں فریق بنیادِ استدلال کے بارے میں ایک رائے رکھتے ہوں۔ مگر جہاں اس بارے میں دونوں فریق کی سوچ الگ الگ ہو، وہاں اعتقادی طریق استدلال بالکل بے اثر اور بے قیمت ہو جاتا ہے۔ جدید نسل جو جدید افکار سے متاثر ہے، اس کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی پیشگی مسلمہ پر یقین نہیں رکھتی۔ اس کا تصور یہ ہے کہ جو دعویٰ کیا جائے اس کو سائنس اور تاریخ کے معلوم حقائق کی بنیاد پر ثابت ہونا چاہیے۔ گویا پہلے طریق استدلال کی بنیاد اگر اعتقادی مسلّمات پر قائم ہے تو دوسرے طریق استدلال کی بنیاد عقلی مسلّمات پر۔ مگر موجودہ زمانہ میں عربی، فارسی، اردو اور انگریزی میں ہمارے لکھنے والوں نے جو کتابیں لکھی ہیں، ان میں کوئی کتاب ایسی نہیں جس میں اسلام کو حقیقی معنوں میں جدید انسان کے اپنے مسلّمات کی بنیاد پر پیش کیا گیا ہو۔ دوسری کمزوری جو ان تمام کتابوں میں مشترک طور پر پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ کتابیں افضلیت اور برتری کی اصطلاحوں میں لکھی گئی ہیں۔ ان کا مقصد براہ راست یا بالواسطہ طور پر یہ ہوتا ہے کہ اسلام یا مسلمانوں کی برتری ثابت کریں۔ اس قسم کا لٹریچر کچھ مسلمانوں کو خوش کر سکتا ہے مگر وہ جدید ذہن کے لیے ہر گز مؤثر نہیں ہو سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page