اصل کام
Urdu book, p. 335
By Maulana Wahiduddin Khan
جدید ذہن کو اپیل کرنے والا لٹریچر صرف وہ ہوگا جس میں یہ دکھایا گیا ہو کہ اسلام کی تعلیمات عین فطرت کے مطابق ہیں۔ اسلام اور انسانی فطرت دونوں ایک دوسرے کا مثنیٰ (counter part) ہیں۔ تیسری کمزوری جو جدید پیدا شدہ لٹریچر میں بہت زیادہ عام ہے، وہ یہ کہ یہ کتابیں دعوت کی زبان میں نہیں لکھی گئیں، بلکہ عداوت کی زبان میں لکھی گئی ہیں۔ ان کتابوں کے لکھنے والے تقریباً سب کے سب اپنے سینہ میں یہ احساس لیے ہوتے ہیں کہ موجودہ دنیا اسلام کی دشمن ہو گئی ہے۔ ہر طرف اسلام کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں۔ ہر قوم اسلام کو مٹانے پر تلی ہوئی ہے۔ اس نفسیات کے تحت جو لٹریچر تیار کیا جائے وہ عداوتی لٹریچر ہوگا، نہ کہ دعوتی لٹریچر۔ جو شخص اپنے سینہ میں مدعو کے خلاف نفرت لیے ہوئے ہو وہ پہلے مرحلہ ہی میں اس کام کے لیے اپنے آپ کو نا اہل ثابت کر رہا ہے۔ دعوتی کلام کے لیے مدعو کے حق میں محبت کی نفسیات درکار ہے، نہ کہ نفرت کی۔ نفسیات۔ اس لیے ہمارے لکھنے والے جب تک اپنے سینہ کو منفی نفسیات سے خالی نہ کریں، ان کا دعوتی لٹریچر تیار کرنا ایک جرم ہے، نہ کہ کوئی واقعی اسلامی خدمت۔ سلمان رشدی جیسے واقعات کے مقابلہ میں مسلم رہنماؤں کی ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ اس کو مرتد قرار دے کر ان کے اوپر اسلامی سزا کے نفاذ کا اعلان کریں۔ اس کے برعکس، ان کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ ان کے کیس کو سمجھیں ۔ ان کی ذہنی پیچیدگیوں کا مطالعہ کریں۔ ان کے فکر و نظریہ سے پوری واقفیت حاصل کریں۔ اس طرح کے گہرے مطالعہ کے بعد ان کا فرض ہے کہ وہ اسلام پر ایسی کتابیں تیار کریں جو اس قسم کے لوگوں کو مطمئن کرنے والی ہوں۔ جو ان کی سوئی ہوئی فطرت کو جگا کر انہیں ان کے رب کے قریب کر سکیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader