سوال و جواب
Urdu book, p. 340
By Maulana Wahiduddin Khan
کر کے ختم نہیں کر سکتا۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے، زیرِ نظر کتاب کا عنوان: سورج پر خاک) عام حالت میں وہ ایک ایسی کتاب تھی جو اپنی لغویت کی بنا پر اپنے آپ مر جاتی۔ اس کو نہ کوئی خریدتا اور نہ اس کو کوئی پڑھتا۔ مگر مصنف کے قتل کے فتویٰ کے بعد جب میڈیا میں اس کا چرچا ہوا تو فطری طور پر لوگ اس کی طرف متوجہ ہوگئے اور اس طرح ایک ناقابلِ مارکیٹ کتاب بھی قابلِ مارکیٹ (marketable) کتاب بن گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس فتنہ کا صحیح ترین حل یہ تھا کہ اس کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا اور اس طرح یقینی طور پر وہ اپنے آپ مر جاتا۔ اس طرح کے مسئلہ کا صحیح ترین حل وہ ہے جو اسلام کے خلیفۂ ثانی عمر فاروق کے ایک قول میں ملتا ہے۔ انہوں نے کہا: اِنَّ لِلَّهِ عِبَادًا يُمِيْتُونَ الْبَاطِلَ بِهَجْرِهِ (حلية الاولياء، جلد 1، صفحہ 55)۔ یعنی اللہ کے کچھ بندے ہیں جو باطل کو ہلاک کرتے ہیں اس پر چپ رہ کر۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ تم باطل کا خاتمہ کرو اس کو نظر انداز کر کے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader