خاتمہ کلام
Urdu book, p. 341
By Maulana Wahiduddin Khan
خاتمہ کلام اس کتاب کے بیشتر مضامین سلمان رشدی کا مسئلہ پیش آنے کے جلد ہی لکھے گئے تھے ۔ اس کے کچھ حصے ماہنامہ الرسالہ میں بھی شائع ہوئے ۔ یہ پورا مجموعہ 1989 میں کتاب کی صورت میں مرتب ہو کر چھپنے کے لیے تیار ہو گیا تھا۔ تاہم بعض وجوہ سے بروقت اس کی اشاعت ممکن نہ ہو سکی۔ لمبی تاخیر کے بعد 1996 کے آخر میں اس کو شائع کیا جا رہا ہے۔ اب مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ تاخیر حکمت سے خالی نہ تھی۔ اسی تاخیر کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ ”خاتمہ کلام“ کا یہ باب کتاب کے آخر میں شائع ہو سکے جو بہت بعد کو جون 1996 میں لکھا گیا ہے۔ اگر 1989 میں یہ کتاب چھپ جاتی تو وہ اس ضروری باب سے خالی ہوتی۔ ہمارا لکھنے اور بولنے والا طبقہ عام طور پر سلمان رشدی کو ”اعداء اسلام“ کی سازش سمجھتا ہے ۔ اس کا خیال یہ ہے کہ یہ اسلام کے خلاف اہل مغرب کی سازش ہے جس نے سلمان رشدی کے قصے کی صورت اختیار کی۔ میرے نزدیک یہ محض سطحی بات ہے جو سرا سر بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سلمان رشدی کی کتاب مصنف کا ایک انفرادی فعل ہے، نہ کہ مغربی ملکوں کا کوئی اجتماعی منصوبہ۔ موجودہ زمانہ کا نام نہاد مسلم پریس اس بات کو بہت اچھالتا رہا ہے کہ امریکا اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد امریکا (اور اہل مغرب) نے اسلام کو اپنے دشمن کے طور پر دریافت کیا ہے۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے سے پہلے مغرب جس طرح کمیونزم کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے تھا، اسی طرح اب اس نے اسلام کو اپنے نشانہ پر رکھ لیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس کو اپنے وجود کے لیے ایک عدو درکار تھا، اشتراکى عدو کے خاتمہ کے بعد اس نے اسلامی عدو کو ایجاد کر لیا ہے تا کہ عالمی سطح پر وہ اپنے بقا کی جد و جہد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader