خاتمہ کلام
Urdu book, p. 343
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ دوسری کتاب عربی زبان میں بھی ترجمہ ہو کر چھپ چکی ہے۔ اور اس کا نام یہ ہے: الاسلام واسطورة الواجهة۔ سلمان رشدی کے واقعہ کے ذریعہ زیادہ اہم چیز جو بے نقاب ہوئی ہے وہ خود مسلمانوں کے علماء اور دانشوروں کی ایک مہلک کمزوری ہے، وہ ہے ۔ ایک خبر کو سن کر فوراً اس کے اوپر بھڑک اٹھنا اور بلا تحقیق اس کے پیچھے دوڑ پڑنا۔ اس قسم کی عجلانہ کاروائی ہمیشہ آخر کار خود اپنی رسوائی کا باعث ہوتی ہے۔ اور وہی اس معاملہ میں ہمارے ساتھ پیش آیا ہے۔ اس قسم کا رد عمل بلاشبہ ایک غیر اسلامی فعل ہے۔ قرآن وحدیث میں واضح طور پر اہل اسلام کو ایسے عجلانہ رد عمل سے منع کر دیا گیا ہے۔ قرآن کی سورہ الحجرات میں ارشاد ہوا ہے کہ اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ پر نادانی سے جاپڑو، پھر تمہیں اپنے کیے پر پچھتانا پڑے (49:6)۔ برائی کے خلاف عجلانہ اقدام خدا کی اسکیم کے خلاف ہے۔ چنانچہ اس کا نتیجہ اکثر حالات میں ندامت ہوتا ہے۔ سلمان رشدی کے معاملہ میں تقریبا پوری ملت اسی نادانی سے دوچار ہوئی ہے۔ اس معاملہ کی خبر جب میڈیا کے ذریعہ لوگوں کے سامنے آئی تو تحقیق اور مشورہ کے بغیر ہر ایک لفظی جہاد کے میدان میں کود پڑا۔ مگر آخر میں ہر ایک کو ندامت کا شکار ہو کر پیچھے ہٹنا پڑا۔ 1۔ ہندوستان کے علماء، مثلاً مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ( ناظم ندوۃ العلماء لکھنو), مولانا ابواللیث اصلاحی ( سابق امیر جماعت اسلامی ہند ) نے قتل کے فتوے کی حمایت میں فوراً اخبار میں بیان دے دیا۔ بعد کو حالات نے بتایا کہ ان کی حمایت درست نہ تھی۔ چنانچہ دونوں نے اپنے سابقہ بیان میں تعدیل کی اور دوسرا بیان اخبار میں شائع کیا (ملاحظہ ہو، زیر نظر کتاب کا صفحہ 81 )۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader