خاتمہ کلام
Urdu book, p. 344
By Maulana Wahiduddin Khan
2۔ اس واقعہ کے ابتدائی زمانہ میں مکہ میں مسلم ذمہ داروں کی ایک میٹنگ رابطۃ العالم الاسلامی کے تحت ہوئی۔ اس میٹنگ میں ان ذمہ داروں نے اعلان کیا کہ سلمان رشدی مرتد ہے، اور اسلام میں ارتداد کی سزا موت ہے (ملاحظہ ہو، زیر نظر کتاب کا صفحہ 44-43)۔ اس کے بعد ریاض میں تنظیم اسلامی کانفرنس (آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس) کی میٹنگ ہوئی۔ اس میں 26 مسلم ملکوں کے اعلیٰ ذمہ دار شریک ہوئے۔ انھوں نے بلا اعلان مذکورہ بیان کی تصحیح کی اور متفقہ طور پر اس کے بالکل برعکس بیان دیا۔ انھوں نے آیت اللہ خمینی کے فتوے کو کلی طور پر رد کر دیا۔ (ملاحظہ ہو، زیر نظر کتاب، صفحہ 46) 3۔ مسلم دنیا کی مشہور شخصیت اور سعودی عالم ڈاکٹر عبداللہ عمر نصیف نے ابتدا میں وہی بات کہی جو آیت اللہ خمینی کی حمایت میں عام علماء کہہ رہے تھے۔ یعنی یہ کہ سلمان رشدی اپنی مذکورہ کتاب کی وجہ سے قابل قتل ہے۔ (ملاحظہ ہو، زیر نظر کتاب، صفحہ 43)۔ مگر بعد کو انھیں اس انتہا پسندانہ نظریہ سے رجوع کرنا پڑا۔ ڈاکٹر عبداللہ عمر نصیف 1993 کے آغاز میں روم (اٹلی) گئے۔ وہاں انھوں نے مسیحی پیشوا پوپ جان پال دوم سے ملاقات کی۔ روم میں انھوں نے ایک عالمی ایجنسی ورلڈ نیوز لنک (World News Link) کو ایک انٹرویو دیا۔ انگریزی رپورٹ کے مطابق، اس کا ایک سوال و جواب یہ تھا: Q. What is your opinion on the death penalty imposed on the British author Salman Rushdie by Iran's religious leaders? A. Some people, in emotion, pass these resolutions. I think that today, we must promote human rights. The death penalty should be only for criminals who commit the crime of killing people. Otherwise, human

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader