Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

خاتمہ کلام

Urdu book, p. 345

By Maulana Wahiduddin Khan

rights should be given to everybody." (Newstime, Hyderabad, 17 February, 1993) سوال: ایران کے مذہبی رہنماؤں نے برطانی مصنف سلمان رشدی کے خلاف موت کی سزا کا فیصلہ دیا ہے۔ اس کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ جواب: کچھ لوگ جذباتی طور پر اس قسم کی تجویزیں منظور کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج ہمیں انسانی حقوق کو فروغ دینا چاہیے۔ موت کی سزا کو صرف ان مجرموں کے لیے ہونا چاہیے جو قتل کا جرم کرتے ہیں۔ بصورت دیگر، ہر ایک کو انسانی حقوق دیا جانا ضروری ہے۔ 4۔ خود ایرانی رہنماؤں کا بھی یہی حال ہوا۔ ابتداءاً انھوں نے بڑے زور شور کے ساتھ قتل کی سزا کا اعلان کیا۔ مگر اس کے بعد ساری دنیا میں ان کے خلاف جور عمل ہوا اس کی بنا پر وہ اس کے لیے کوئی بھی عملی اقدام نہ کر سکے۔ پھر یہ خبریں آنے لگیں کہ ایرانی رہنما سلمان رشدی کے قتل کے فتوے کو واپس لے رہے ہیں۔ آخر کار 12 مارچ 1996ء کو ابوظہبی کی ڈیٹ لائن کے ساتھ اخباروں میں اس عنوان کی خبر آگئی کہ— ایران رشدی کے خلاف قتل کی سزا کو موقوف کرتا ہے: "Iran drops death sentence on Rushdie." اگلے دن اخباروں نے خوشی کے ساتھ ادارتی نوٹ لکھے کہ ساٹھ سال بعد ایران نے اس ”غیر مہذب“ فتوے کو واپس لے لیا۔ ہندوستان ٹائمز (13 مارچ 1996) کے ادارتی نوٹ (End of a Fatwa) کا خاتمہ ان الفاظ پر ہوا: "The Iranian decision must be welcomed with the hope that the twentieth-century world will turn a leaf on the medieval practices of burning books and sending their authors to the stake."

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page