خاتمہ کلام
Urdu book, p. 346
By Maulana Wahiduddin Khan
ایران کے اس فیصلے کو خیر مقدم کیا جانا چاہیے ، اس امید میں کہ بیسویں صدی کی دنیا اب قرون وسطی کے ان طریقوں سے نجات پا جائے گی، جب کہ کتابوں کو جلایا جاتا تھا اور ان کے مصنفین کو زندہ نذر آتش کر دیا جاتا تھا۔ 5۔ یہی واقعہ وسیع تر سطح پر ملت کے ساتھ پیش آیا۔ سلمان رشدی کی کتاب پر آیت اللہ خمینی کا فتوئی آنے کے بعد ساری دنیا کا مسلم پریس بیک زبان اس کی تائید پر کھڑا ہو گیا۔ تمام اخبار لکھنے اور بولنے والے لوگ مکمل طور پر خاموش ہیں، جب کہ سلمان رشدی بدستور اپنی جگہ قائم ہے۔ اگر ان لوگوں کا پچھلا موقف درست تھا تو شرعی طور پر ان کے لیے جائز نہیں کہ سلمان رشدی زندہ موجود ہو اور وہ اس کے معاملہ خاموشی اختیار کر لیں۔ انھیں نہ صرف لکھنا اور بولنا چاہیے، بلکہ اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر اپنے اعلان کی عملی تکمیل کرنا چاہیے۔ اور اگر ان پر ان کی غلطی واضح ہو گئی ہے تو ان کا فرض ہے کہ جس طرح پہلے انھوں نے واضح لفظوں میں رشدی کی گردن زدنی ہونے کا اعلان کیا تھا، اب کھلے طور پر اپنی مجرمانہ غلطی کا اعتراف کریں۔ اور جن لوگوں تک انھوں نے اپنی پہلی رائے پہنچائی تھی، اب ان تمام لوگوں تک اپنی دوسری رائے بھی پہنچائیں۔ ان دو کے سوا تیسرا رویہ ـــ بلا اعلان چپ ہو جانا، موجودہ حالت میں ایک جرم ہے اور سخت اندیشہ ہے کہ اس تیسرے موقف کو اختیار کرنے کے لیے انھیں خدا کے یہاں سخت مواخذہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے بار بار ایسا کیا ہے کہ ان کے سامنے ایک صورت حال آئی۔ انھوں نے ضروری تحقیق کے بغیر جلد بازی میں ایک انقلابی قدم اٹھا دیا۔ بعد کو معلوم ہوا کہ ان کا اقدام غلط تھا۔ اس علم کے بعد انھوں نے صرف یہ کیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader