Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ
خاتمہ کلام
Urdu book, p. 347
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ خاموش ہو کر اپنے اپنے مقام پر بیٹھ گئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی رہنما کے لیے یہ موقف جائز نہیں۔ اس طرح بزعم خود وہ اپنی تصویر بگڑنے سے بچا لیتا ہے مگر عوام کو ابدی طور پر ہلاکت کے گڑھے میں باقی رہنے دیتا ہے۔ عام لوگ کسی معاملہ کی گہرائی کو سمجھ نہیں سکتے۔ وہ اپنے قائد کے دماغ سے سوچتے ہیں۔ اس لیے جس قائد نے عوام کو پہلی بار غلط راستہ پر دوڑایا تھا، اسی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ غیر مشتبہ انداز میں اپنی غلطی کا اعلان کرے، تا کہ اس کے اتباع (followers) معاملہ کی صحیح نوعیت کو سمجھ لیں اور دوبارہ ایسی غلطی میں مبتلا نہ ہوں۔ امتحان کی اس دنیا میں غلطی کرنا جرم نہیں ہے۔ اصل جرم یہ ہے کہ غلطی کرنے کے بعد آدمی اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader