Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

یہ اسلام نہیں

Urdu book, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

مذکورہ مسلمان اگر واقعۃ ”اسلامی جہاد“ کرنا چاہتے تھے تو ان کا فرض تھا کہ سب سے پہلے قرآن اور حدیث اور سیرت کو دیکھ کر معلوم کرتے کہ اس طرح کی صورتِ حال جب دورِ اول میں پیش آئی تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہہم نے اس معاملہ میں کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔ اور پھر وہی کرتے جو رسول اور اصحابِ رسول کے نمونہ سے ثابت ہورہا ہو۔ سیرتِ رسول اور اسوۂ صحابہ سے بے نیاز ہو کر موجودہ قسم کا اشتعال انگیز کارروائی اپنے نفس کا اتباع ہے، نہ کہ خدا اور رسول کا اتباع۔ جب ہم اس اعتبار سے دور اول کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ قسم کی گستاخی کرنے والے غیر مسلموں کے خلاف کبھی بھی اس طرح کی کارروائی نہیں کی گئی جو موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے کی یا کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کے خلاف صحابہ نے نہ جلوس نکالا، نہ ان کے گھروں اور جائدادوں کو جلایا۔ اور نہ ان کے خلاف نعرہ بازی کا ہنگامہ کھڑا کیا۔ اس کے بجائے جو کچھ کیا گیا وہ صرف یہ تھا کہ ایسے لوگوں کے حق میں ہدایت کی دعائیں کی گئیں ۔ اور دلیل کے ذریعے ان کی بات کی تردید کی گئی۔ اس سے آگے ان کا سارا معاملہ اللہ تعالیٰ کے اوپر چھوڑ دیا گیا۔ رسول اور اصحابِ رسول کا یہ نمونہ ہمیں بتاتا ہے کہ اس طرح کے معاملات میں ہمیں کیا کرنا ہے۔ ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ ہم ایسے لوگوں کے حق میں اصلاح اور ہدایت کی دعا کریں۔ ان سے ملاقات کر کے پروقار طریقہ سے ان کی غلط فہمی کو دور کریں۔ سنجیدہ اور علمی انداز میں وضاحتی مضامین لکھ کر اخبارات میں شائع کرائیں۔ یہی واحد کام ہے جو مسلمانوں کو کرنا ہے۔ اس کے سوا مسلمان جو کچھ کر رہے ہیں وہ خدا کے غضب کو دعوت دینے والا ہے، نہ کہ خدا کی رحمت کا مستحق بنانے والا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو دنیا کے لیے رحمت بنا کر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page