Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

یہ اسلام نہیں

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

بھیجا ہے، نہ کہ دنیا کو جلانے اور پھونکنے والا بنا کر۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے اس مزاج کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس نے ان سے ایک عظیم نعمت کو چھین لیا۔ اور وہ داعیانہ کلام کی صلاحیت ہے۔ داعی اپنی قوم کا ناصح ہوتا ہے۔ داعیانہ کلام مخاطب کے لیے محبت اور خیر خواہی کا جذبہ سے نکلتا ہے۔ مگر جب مسلمانوں کا حال یہ ہو کہ وہ بات بات پر بھڑک اٹھیں تو ان کا دل دوسری قوموں کے خلاف نفرت اور بیزاری کے جذبہ سے بھر جائے گا۔ ان کے اندر وہ معتدل نفسیات باقی ہی نہ رہے گی جو آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ کسی کے سامنے سنجیدہ اور مدلل انداز میں خدا کے رسول کا پیغام پیش کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں جشنِ رسالت کی دھوم کے باوجود تبلیغِ رسالت کا کام ٹھپ پڑا ہوا ہے۔ پیغمبر اسلام کے بعد آپ کی امت پر سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ آپ کی خدائی پیغام کو خدا کے تمام بندوں تک پہنچائے۔ مگر پیغام رسالت کو دوسری قوموں تک پہنچانے کے لیے دوسری قوموں کی سچی خیر خواہی درکار ہے۔ اور موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنے منفی مزاج کے نتیجہ میں پہلے ہی اس کو کھو چکے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page