جہاد یا سرکشی
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
جہاد یا سرکشی بنگلور کے انگریزی اخبار دکن ہیرالڈ (7 ستمبر 1986) نے ایک کہانی چھاپي جس میں پیغمبر اسلام کے خلاف گستاخی کا پہلو پایا جاتا تھا۔ اس پر مقامی مسلمان بگڑ گئے۔ انھوں نے اخبار کے گودام جلا ڈالا جس میں ایک کروڑ روپیہ کا کاغذ رکھا ہوا تھا۔ پاکستان کے انگریزی اخبار فرنٹیر پوسٹ (9 جنوری 1987) میں کسی مغربی پرچہ سے ایک مضمون نقل کیا گیا۔ اس کے ساتھ آدم اور حوا کی ایک تصویر تھی وہ بھی فرنیٹر میل میں چھپ گئی۔ اس کے بعد ڈیڑھ ہزار کی تعداد میں بھیرے ہوئے مسلمانوں نے اخبار کی وسیع عمارت کو گھیر لیا اور اس کو ساز وسامان سمیت جلا کر خاکستر کر دیا۔ اس قسم کے واقعات ایک یا دوسری شکل میں ہر ملک میں ہو رہے ہیں جہاں مسلمانوں کو عمل کی آزادی حاصل ہے۔ مسلمان اپنی ملی ہوئی آزادی کو اسی قسم کی تخریب کاری میں استعمال کر رہے ہیں اور اس کا نام انھوں نے اسلامی جہاد رکھا ہے۔ اس قسم کا ہر عمل بلا شبہ غیر اسلامی عمل ہے ۔ یہ جہاد نہیں بلکہ سرکشی ہے اور سرکشی اللہ تعالیٰ کے یہاں بدترین جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس معاملہ کی شرعی حیثیت کو سمجھنے کے لیے ایک حدیث کا مطالعہ کیجیے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ فَقَالَ : اضْرِبُوهُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ، وَالصَّارِبُ بِنَعْلِهِ، وَالصَّارِبُ بِثَوْبِهِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِأَصْحَابِهِ: بَكِّتُوهُ فَأَقْبَلُوا عَلَيْهِ يَقُولُونَ: مَا اتَّقَيْتَ اللَّهَ، مَا خَشِيتَ اللَّهَ، وَمَا اسْتَحْيَيْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : أَخْزَاكَ اللَّهُ. فَقَالَ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader