جہاد یا سرکشی
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
رَسُولُ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا تَفُوْلُوا هَكَذَا، لَا تُعِيْنُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ، وَلِكِنْ قُوْلُوا اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اَللَّهُمَّ ارْحَمْهُ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4478-4477)۔ یعنی، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ وہ شراب پئے ہوئے تھا۔ آپ نے فرمایا اس کو مارو۔ پس ہم میں سے کوئی شخص اس کو ہاتھ سے مارنے لگا اور کوئی شخص کپڑے سے اور کوئی شخص جوتے سے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ اس کو عار دلاؤ۔ پس لوگ کہنے لگے کیا تم کو ڈر نہیں، کیا تم کو اللہ کا خوف نہیں، کیا تم کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرم نہیں آئی۔ پھر حاضرین میں سے بعض لوگوں نے یہ کہہ دیا کہ تمہیں رسوا کرے۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ اس طرح مت کہو۔ اس کے مقابلہ میں شیطان کے مددگار نہ بنو۔ بلکہ یہ کہو کہ اے اللہ اس کی مغفرت فرما۔ اے اللہ اس پر رحم فرما۔ اس حدیث سے سے چند باتیں واضح طور پر معلوم ہوتی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ صحابہ کرام نے جب ایک شارب خمر کو دیکھا تو وہ خود اس کو مارنے نہیں لگے۔ بلکہ اس کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے جو اس وقت مدینہ میں صاحبِ آمر (ruler) کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص اگر ایک ایسا فعل کرے جو ثابت شدہ شرعی جرم کی حیثیت رکھتا ہو تب بھی عوام کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ بطور خود اس پر مقررہ سزا کا نفاذ شروع کردیں۔ سزا کے نفاذ کا حق صرف صاحبِ امر کو ہے ۔ اور اسی طرف معاملہ کو لوٹایا جانا چاہئے۔ دوسری بات یہ کہ ثابت شدہ مجرم کو سزا دینے کا کام بھی خیرخواہی کے جذبے کے ساتھ ہونا چاہئے۔ اس کو صرف "سزا" دی جائے، اس کو ذلیل“ نہ کیا جائے۔ کوئی بھی قولی یا عملی روش جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader