جہاد یا سرکشی
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
ذلیل کرنے کے ہم معنی ہو وہ مجرم کے اندر منفی نفسیات پیدا کرے گی۔ مجرم کو سزا دینے کے ساتھ ذلیل و رسوا کرنا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ وہ دین اور اہل دین سے متنفر ہوجائے۔ اس طرح کی روش کے نتیجہ میں اس کے اندر ضد اور نفرت کا جذبہ بھڑک اٹھے گا۔ اس سے پہلے اگر وہ حق سے ایک قدم دور تھا تو اب وہ اس سے سو قدم دور ہو جائے گا۔ شیطان اس کے اندر مخالفانہ جذبات بھڑکاکر اس کو اپنا شکار بنا لے گا۔ اس سلسلہ میں ایک اور بات ہے جس کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے ۔ وہ یہ کہ کسی جرم کی شرعی سزا وہی ہے جو کتاب وسنت سے ثابت ہو۔ اس کے سوا کوئی اور سزا دینا یقینی طور پر فعل حرام کی حیثیت رکھتا ہے۔ مثلاً شارب خمر کے لیے اگر شریعت میں یہ سزا مقرر کی گئی ہے کہ اس آدمی کو مارا جائے جس نے شراب پی ہے تو کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ شارب خمر کے بھائی بہنوں کو مارنے لگے، یا وہ شارب خمر کا گھر جلانے لگے، یا وہ اس کے کارخانے کو لوٹنا شروع کر دے۔ سزا نافذ کرنے والے ادارہ کا کام صرف یہ ہے کہ جب ایسا کوئی کیس سامنے آئے تو وہ تحقیق کرے۔ جب تحقیق اور شہادت سے ثابت ہو جائے کہ متعلقہ شخص فی الواقع مجرم ہے تو ایسے جرم کے لیے شریعت کی مقررہ سزا ہے اس کو اس شخص پر نافذ کرے۔ کوئی دوسری سزا نافذ کرنا شریعت کی تعمیل نہیں بلکہ شریعت سے بغاوت ہے۔ ایسا شخص خود سب سے بڑا مجرم ہے، اس کو حق نہیں کہ کسی دوسرے شخص کو مجرم قرار دے کر اس کے اوپر اپنی خود ساختہ سزا کا نفاذ کرنے لگے۔ زمانہ جاہلیت میں یہود اور اہل عرب نے یہ دستور بنا رکھا تھا کہ وہ اونچے خاندان کے مجرم اور نیچے خاندان کے مجرم کے درمیان سزاؤں میں فرق کرتے تھے۔ اس پر قرآن میں قصاص کی آیت (178: 2) اتاری گئی ۔ اس میں کہا گیا کہ اے ایمان والو، تم پر مقتولین کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader