Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

ارتداد کے جرم کی سزا موت ہے۔ تاہم رابطہ نے اس رسمی بیان کے سوا اس مہم میں اور قابل ذکر سرگرمی نہیں دکھائی۔ 7 مارچ 1989 کو حکومتِ ایران نے برطانیہ سے اپنے سفارتی تعلقات ختم کر دیے اور اپنے تمام سفارتی عملہ کو لندن سے واپس بلا لیا۔ (ٹائمز آف انڈیا 8 مارچ 1989) جوابی انعام ٹائمز آف انڈیا (20 فروری 1989، سکشن 2، صفحہ 1) پر ایک خبر اس عنوان کے ساتھ چھپی: "For a Civilised Khomeini" خبر میں کہا گیا تھا کہ لندن کے ایک بڑے اخبار کے مالک رابرٹ میکسول نے یہ اعلان کیا ہے کہ جو شخص آیت اللہ خمینی کو مہذب انسان بنانے کا کام انجام دے، وہ اس کو بطور انعام 106 لاکھ ڈالر ($10.6 million) ادا کریں گے۔ ان کا یہ اعلان لندن کے ہفتہ وار اخبار پیپل (People) میں چھپا ہے۔ اعلان کے مطابق یہ انعام اس شخص کو دیا جائے گا جو ایرانی لیڈر کو اپنی غلطی کے اعتراف پر آمادہ کرے اور ان کو اس پر راضی کرے کہ وہ عوام کے سامنے بائبل کے احکام عشرہ میں چھٹا اور نواں حکم پڑھ کر سنائیں جو کہ ہے— تم خون نہ کرنا، تم جھوٹی گواہی نہ دینا: The British newspaper magnate Mr. Robert Maxwell had pledged 16 million ($10.6 million) as a reward to anyone who could "civilise" Ayatollah Khomeini, the Iranian ruler. "The People," a London weekly tabloid, stated that the money would be given to anyone who could convince Ayatollah Khomeini to repent and publicly recite the sixth and ninth commandments from the

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page