Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹائم نے اہل مغرب کے جس تاثر کا ذکر کیا ہے اس کی زد بالواسطہ اعتبار سے اسلام پر پڑتی ہے۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ جو لوگ اپنے یہاں آزادانہ آمدورفت کا ماحول قائم کیے ہوئے ہیں، وہ اس بات کا خطرہ محسوس کر رہے ہیں کہ اسلام کا ان کے معاشرے میں آنا، ان کی زندگیوں کے لیے زبردست خطرہ ہے۔ کیونکہ مہذب سماج میں غیر مہذب انسانوں کے داخلہ کے ہم معنی ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ وہ اسلام جو امن کا دین تھا اور جس کے پیغمبر کو رحمتِ عالم کہا گیا تھا، اس کی تصویر ایسی بنا دی جائے کہ اس کی قربت سے لوگوں کو اپنی جان کا خطرہ محسوس ہونے لگے۔ ریاض کا نفرنس کا فیصلہ 14-16 مارچ 1989 کو ریاض میں تنظیم اسلامی کا نفرنس (آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس ) کا اجتماع ہوا۔ اس میں 46 مسلم ملکوں کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔ اس کا نفرنس کے ایجنڈے پر افغانستان کے مسئلہ کے بعد دوسرا سب سے زیادہ حساس مسئلہ سلمان رشدی کے معاملہ پر اپنا فیصلہ دینا تھا۔ سعودی حکمراں شاہ فہد کی تقریر سے اس کا افتتاح ہوا۔ اس مسئلہ کے مختلف پہلوؤں پر چند روزہ بحث کے بعد 16 مارچ 1989 کو مسلم ممالک کے نمائندوں نے اپنا متفقہ فیصلہ دے دیا۔ اس فیصلہ کے مطابق ،46 ملکوں کی تنظیم اسلامی کانفرنس کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ایران کے واحد اختلاف کے ساتھ "شیطانی آیات" کے مصنف سلمان رشدی کے خلاف آیت اللہ خمینی کے موت کے فتویٰ کو سختی سے مسترد کر دیا گیا۔ سفارت کاروں نے ایرانی فتویٰ کو مسترد کیے جانے کو انتہائی اقدام قرار دیا۔ کانفرنس نے سلمان رشدی کے ناول کو اسلام کی اہانت کرنے والی کتاب قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page