Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

مختلف مذاہب کے پیشواؤں کی دل آزاری نہ کریں۔ سعودی عرب کے شاہ فہد نے اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو عفو درگزر سے کام لینا چاہیے۔ اور غلط کاروں کو توبہ کرنے کا موقع دینا چاہیے۔ انھوں نے اس طرح کے معاملات میں اعتدال پسندی کی تلقین کی (قومی آواز 17 مارچ 1989)۔ اس فیصلے سے یہ ظاہر ہو گیا کہ رشدی کے قتل کے فیصلے میں ایران کی نام نہاد اسلامی حکومت تنہا ہے۔ بقیہ تمام مسلم ممالک ، سرکاری سطح پر یہ رائے رکھتے ہیں کہ رشدی نے اگر چہ انتہائی قابل اعتراض کتاب لکھی ہے، اس کے باوجود یہ صحیح نہیں کہ مذہبی فتویٰ جاری کر کے تمام دنیا کے مسلمانوں کو اکسایا جائے کہ جہاں پائیں قتل کر دیں۔ سلمان رشدی کا جواب ہمیں پرامن ذرائع سے دینا چاہیے، نہ کہ بم اور گولی سے۔ ایک مغالطہ سلمان رشدی کے بارے میں قتل کی وکالت کرنے والے جو مضامین شائع ہوئے، ان میں عام طور پر یہ الفاظ تھے کہ رشدی نے دنیا کے ایک بلین مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ یہ الفاظ بلا شبہ خلاف واقعہ ہیں۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس سلسلے میں جتنے خطوط اور مضامین چھپے ہیں وہ 99 فی صد سے زیادہ ہندوستانی اور پاکستانی مسلمانوں کے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ہندوستان اور پاکستان کے ”اردو خواں‘‘ مسلمان ہیں جنھوں نے اس معاملے میں پرُ شور حصہ لیا۔ حتیٰ کہ بیرونی ملکوں میں جو مظاہرے ہوئے ہیں وہ بھی عملاً وہاں بسنے والے ہندوستانی اور پاکستانی مسلمانوں کی طرف سے تھے۔ ان ملکوں میں عرب ممالک یا دوسرے ملکوں کے جو مسلمان آباد ہیں انھوں نے اس میں عملاً اتنا کم حصہ لیا ہے کہ وہ تقریباً نہیں کے برابر ہے۔ مثال کے طور پر ٹائمز آف انڈیا (3 اپریل 1989) میں آخری صفحہ کے نیچے ایک خبر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page