Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

ایک مغالطہ

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے جس کا عنوان یہ ہے کہ برطانیہ میں شیطانی آیات کے خلاف شورش تیز تر : "Anti Verses Stir Intensified in the U.K." خبر میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ کے مسلمانوں نے طے کیا ہے کہ وہ شیطانی آیات کے خلاف ایجی ٹیشن کو تیز تر کر دیں۔ حتیٰ کہ اس معاملہ میں وہ برطانی قانون کو توڑ کر بھی اپنی مہم کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد خبر میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر کلیم صدیقی نے مسلم انسٹی ٹیوٹ کے تحت ہونے والی ایک کانفرنس میں اس بات کا اعلان کیا۔ ڈاکٹر کلیم صدیقی کون ہیں۔ یہ ہندوستان کے ایک "اردوداں" مسلمان ہیں جو ہندوستان سے جا کر لندن میں آباد ہو گئے ہیں۔ (18 اپریل 1996 کو ان کا انتقال ہو گیا)۔ 28 مئی 1989 کورشدی کی کتاب کے خلاف لندن میں مظاہرہ کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ تقریباً 20 ہزار مسلمان اس میں شریک تھے۔ ان لوگوں نے تشدد اور توڑ پھوڑ بھی کیا۔ یہ مظاہرہ بھی برصغیر ہند کے ان لوگوں کی طرف سے تھا جو انگلینڈ میں مقیم ہیں۔ اس کے لیڈر معین الدین چودھری تھے جو اصلا بنگلہ دیش سے تعلق رکھتے ہیں ( قومی آواز 29 مئی 1989 )۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو بیرونی ملکوں میں مسلمانان عالم کے نام پر اس احتجاجی مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔ یہ دراصل ہندوستان اور پاکستان کے کچھ مسلمان ہیں، نہ کہ ساری دنیا کے مسلمان ۔ اس سلسلہ میں جو خبریں آتی رہی ہیں ان میں اب تک عرب یا ترکی یا ملیشیا یا انڈونیشیا جیسے ملک کے لوگوں کا نام نہیں آیا ہے جو اس قسم کے مظاہرے اور ایجی ٹیشن میں سرگرم حصہ لے رہے ہوں۔ حتیٰ کہ خود ہندوستان، پاکستان میں بھی صرف وہ لوگ اس مہم میں آگے ہیں جن کو ہم نے "اردوداں" مسلمان کہا ہے۔ خود اس علاقہ کے غیر اردوداں (مثلاً جنوبی ہند کے مسلمان ) اب تک اس مہم میں کسی قابل لحاظ حیثیت میں شریک نہیں ہوئے ۔ یہ واقعہ ثابت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page