شتم رسول کا مسئلہ
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
کر رہا ہے کہ یہ مہم سارے عالم اسلام کی مہم نہیں ہے۔ بلکہ عالم اسلام کی ایک محدود اقلیت کی مہم ہے جس نے غیر واقعی طور پر اپنے آپ کو اسلام کا واحد ٹھیکیدار سمجھ لیا ہے۔ مضحکہ خیز رد عمل سلمان رشدی کی کتاب بلاشبہ لغو ہے (ملاحظہ ہو زیر نظر کتاب کا موضوع، ’’سورج پر خاک‘‘)۔ مگر شیعہ اور سنی علماء کا مذکورہ رد عمل بلاشبہ اس سے بھی زیادہ لغو ہے۔ سلمان رشدی نے اگر پیغمبر اسلام کی توہین کی تھی تو آیت اللہ خمینی اور ان کے ہم نوا علماء اسلام کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انھوں نے دنیا کی نظر میں اسلام کی یہ تصویر پیش کی ہے کہ وہ ایک وحشی اور غیر مہذب دین ہے۔ سلمان رشدی نے اپنی کتاب سیکولرزم کے نام پر لکھی تھی مگر شیعہ اور سنی علماء اپنا رد عمل اسلام کے نام پر ظاہر کر رہے ہیں۔ رشدی نے سیکولرزم کو بدنام کیا تھا، شیعہ اور سنی علماء نے اسلام کو ساری دنیا میں بدنام کر دیا۔ توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم (شتم رسول) پر فقہاء نے جو سزا مقرر کی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جب بھی کسی کو محسوس ہو کہ فلاں شخص نے پیغمبر کی توہین کی ہے تو وہ فوراً بندوق ہاتھ میں لے اور وہاں پہنچ کر اسے گولی مار دے۔ اسلام میں جرم کا معاملہ ایک عدالتی معاملہ ہے۔ یعنی مجرم ہاتھ کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور عدالتی کاروائی کے بعد اس پر ضروری فیصلہ کا نفاذ کیا جائے گا۔ عدالتی کاروائی کے بغیر اگر کوئی شخص کسی مجرم کو سزا دینے لگے تو یہ ایک سرکشی کا فعل ہے، نہ کہ اسلام کا فعل۔ مزید یہ کہ توہین رسول کی سزا کا معاملہ کوئی مطلق معاملہ نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جب بھی کوئی شخص توہین رسول کا مرتکب ہو تو لازماً اس کو قتل کر دیا جائے یا اس کے قتل پر انعام کا اعلان کر دیا جائے۔ اسلام کی پوری تاریخ میں ایسا کبھی نہیں کیا گیا۔ یہ صرف موجودہ زمانہ کے نام نہاد مسلم قائدین ہیں جو اس قسم کے بیانات جاری کر کے اسلام کو دنیا کی نظر میں مضحکہ بنا رہے ہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ سرکشی ہے، نہ کہ اسلام کی تعمیل۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader