Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

سورج پر خاک

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

person) کے نقطۂ نظر بیان کرنے کی کوشش ہے۔ کیونکہ سیکولرزم، یا سیکولر انسان کا یہ مطلب کسی بھی سنجیدہ صاحبِ علم نے کبھی نہیں بتایا جس کا نمونہ سلمان رشدی نے اپنی مذکورہ کتاب میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے خلاف ایک انتہائی بیہودہ اور فحش قسم کا ناول ہے۔ جیسا کہ خود اس کے نام سے ظاہر ہے۔ اس میں حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، وغیرہ کے نام تو بالکل اصل حالت میں درج کیے گئے ہیں، البتہ پیغمبر کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے ماہونڈ (Mahound) لکھا گیا ہے۔ یورپ کے مسیحی علماء اور مستشرقین نے قدیم زمانہ میں اپنے جذبۂ عناد کی تسکین کے لیے آپ کے نام کو طرح طرح سے بگاڑا تھا (ملاحظہ ہو زیرِ نظر کتاب کا پہلا باب، اسلام مغربی لٹریچر میں)۔ انھیں میں سے ایک بگڑا ہوا نام وہ ہے جسے کو سلمان رشدی نے انتہائی مجرمانہ طور پر اپنی کتاب میں استعمال کیا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نسلِ انسانی کی بزرگ ترین شخصیت ہیں۔ آپ کی ذاتِ گرامی بلاشبہ پوری انسانیت کے لیے فخر کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کی عظمت اور آپ کا تقدس اتنا زیادہ مُسَلَّم ہے کہ دنیا کے تمام سنجیدہ لوگوں نے متفقہ طور پر اس کا اقرار کیا ہے۔ آپ کا ایک خصوصی امتیاز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ابدی طور پر فتح وغلبہ کی نسبت عطا فرمائی ہے۔ چنانچہ قدیم عرب میں ہر قسم کی شدید ترین مخالفت کے باوجود آپ تمام قبائل کے اوپر مکمل طور پر غالب رہے۔ آپ کے زمانہ کی دو طاقت ور ترین سلطنتیں (روم اور ایران) آپ سے ٹکرائیں مگر وہ خود پاش پاش ہو کر رہ گئیں۔ آپ کے ظہور کے بعد یہودی اور عیسائی ساری دنیا میں آپ کے دشمن ہو گئے، مگر آپ کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکے۔ صلیبی جنگوں کے بعد یورپ کی مسیحی اقوام نے متحدہ طور پر یہ کوشش کی کہ آپ کی تصویر کو بگاڑیں اور آپ کی تاریخ کو بالکل مسخ کر ڈالیں۔ مگر ہزار برس تک اپنی ساری طاقت خرچ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page