شتم رسول کا مسئلہ
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈال رہا ہے، وہ خود اپنے آپ کو باطل ثابت کر رہا ہے۔ کتا اگر ہاتھی کے اوپر بھونکنے تو ہاتھی کو اس کی ضرورت نہیں کہ وہ کتے کی بھونک کی تردید کرے۔ ہاتھی اپنے با عظمت وجود کے ساتھ اپنے آپ کو کتے کی بھونک کی تردید ہے۔ پیغمبر اسلام کی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ کسی کے قلم کی سیاہی اس کو داغدار کر سکے۔ ساری تاریخ، تمام انسانی علوم، حتی کہ پوری کائنات ایسی ہر کوشش کی تردید ہے۔ جس ہستی کے ظہور نے خود انسانی تاریخ کو بدل ڈالا ہو، کون ہے جو اس کی تصویر کو بدلے، کون ہے جو اس کی تاریخ کو مٹا سکے۔ سطحی کتاب جن لوگوں نے سلمان رشدی کی کتاب کو پڑھا ہے، وہ اس کی تصدیق کریں گے کہ رشدی کی کتاب ( شیطانی آیات ) بلاشبہ ایک سطحی اور عامیانہ کتاب ہے۔ اس میں قاری کے لیے کوئی کشش نہیں ۔ نہ صرف یہ کتاب غیر معیاری (Sub-standard) ہے۔ بلکہ خود اس کا مصنف سلمان رشدی انگریزی کا کوئی معیاری ادیب نہیں۔ برطانیہ کے مشہور ادبی ناقد آبروں واف (Auberon Waugh) نے کہا ہے کہ سلمان رشدی اس قابل ہے کہ اپنی خراب انگلش کی بنا پر اس کو سزا دی جائے: "Mr. Salman Rushdie deserves to be punished for bad English." خود مغرب کے سنجیدہ تبصرہ نگاروں نے اس ناول کے بارے میں اس قسم کے الفاظ کہے ہیں بوجھل، نا قابل فہم، نا قابل مطالعہ: "Dense, impenetrable, un-readable." مسڑ خوشونت سنگھ نے رشدی کی کتاب کے بارے میں کہا کہ ایک ناول کی حیثیت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader