شتم رسول کا مسئلہ
Urdu book, p. 54
By Maulana Wahiduddin Khan
سے بھی "شیطانی آیات" مطالعہ کے لائق نہیں : "Even as a novel 'The Satanic Verses' is not readable." ایک اور ہندوستانی جرنلسٹ مسٹر ارن شرما نے اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تیسرے درجہ کی تھیم، دوسرے درجہ کا مصنف اور اول درجہ کا کاغذ : "Third rate theme, by a second rate author, on a first rate paper." کتاب کا سطحی اور ناقص معیار مقتضی تھا کہ اس کو ایک جاہل کی جہالت سمجھ کر نظر انداز کر دیا جائے ۔ اس طرح یہ کتاب اپنی موت آپ مر جاتی۔ ریاض کے عربی ہفتہ وار الدعوة (15 رمضان 1409ھ، 20 اپریل 1989) میں دکتور عبد الکریم محمد الحسن بکا کرنے بجاطور پر لکھا ہے کہ اس کتاب پر بہترین تنقید یہ تھی کہ اس سے اعراض برتا جائے (کَآنَ خَيْرٌ نَقْد لَهُ الْإِعْرَاضُ عَنْهُ ، صفحہ 47 ) ۔ اسی طرح اردن کے صالح القاسم نے لکھا ہے کہ ماضی میں بے شمار کتابیں اسلام کے خلاف لکھی گئیں۔ مگر علماءِ اسلام نے ان کو نظر انداز کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام اپنی ساری عظمت کے ساتھ زندہ رہا اور یہ کتابیں گوشہ اہمال میں جا کر ختم ہو گئیں۔ اگر اہمال و اعراض کا یہی طریقہ سلمان رشدی کی کتاب کے ساتھ اختیار کیا جاتا تو وہ بھی فراموشی کی تاریکی میں گم ہو کر ختم ہو جاتی (صفحہ 39)۔ کتاب کا مضمون سلمان رشدی کی کتاب کا نام (شیطانی آیات) ایک جھوٹی کہانی پر مبنی ہے۔ یہ جھوٹی کہانی 5 نبوی میں اس وقت گھڑی گئی جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، پر سورہ النجم نازل ہوئی (تفصیل ملاحظہ ہو: فرضی کہانی)۔ کہانی کی ابتدائی مصنفین عین اسی جرم کے مرتکب ہوئے تھے جس کا ارتکاب سلمان رشدی نے اپنی کتاب شیطانی آیات لکھ کر کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader