Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

فرضی افسانہ

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

الْأُخْرَى فَإِنَّهُنَّ الْغَرَانِيقُ الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرْتَجَىٰ (معجم البلدان، جلد 4، صفحہ 116)۔ یعنی، قسم ہے لات اور عزیٰ کی اور تیسرے منات کی۔ یہ سب بلند ترین ہیں۔ ان کی سفارش ضرور متوقع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ میں سورہ النجم کی مذکورہ آیتیں اتریں تو آپ نے حسب معمول ایک مجمع میں ان کو سنایا۔ وہاں مسلمانوں کے ساتھ کچھ مشرک لوگ بھی موجود تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے جب یہ الفاظ نکلے : أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّىٰ وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى (کیا تم نے لات اور عزیٰ کو دیکھا۔ اور تیسرے ایک اور منات کو) تو بعض مشرکین نے اس میں اپنے الفاظ ملا دیے۔ اپنے بتوں کے نام سن کر وہ فوراً وہ الفاظ بول پڑے جو ان بتوں کی نسبت سے پہلے سے ان کے یہاں رائج تھے اور جن کو وہ ان بتوں کے نام کے ساتھ جوڑ کر کہا کرتے تھے۔ وہ الفاظ یہ تھے : فَإِنَّهُنَّ الْغَرَانِيقُ الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرْتَجَى (یہ تینوں بلند مرتبے کے خوبصورت پرندے ہیں، اور ان سے سفارش کی امید کی جاتی ہے)۔ ان دوسرے الفاظ کا کوئی بھی تعلق پیغمبر اسلام سے نہ تھا۔ آپ نے تو صرف اول الذکر الفاظ (أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّىٰ وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى) فرمائے تھے۔ ثانی الذکر الفاظ (فَإِنَّهُنَّ الْغَرَانِيقُ الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرْتَجَى) تمام تر مشرکین کے الفاظ تھے جن کو انھوں نے آواز ملا کر اپنی طرف سے کہہ دیا۔ یہی بات بعض مفسرین نے ان الفاظ میں کہی ہے: أَنَّ الشَّيْطَانَ أَوْقَعَ فِي مَسَامِعِ الْمُشْرِكِينَ ذَلِكَ فَتَوَهَّمُوا أَنَّهُ صَدَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ فِي نَفْسِ الْأَمْرِ، بَلْ إِنَّمَا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page