فرضی افسانہ
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
كَانَ مِنْ صَنِيعِ الشَّيْطَانِ لَا مِنْ رَسُولِ الرَّحْمَنِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (تفسیر ابن کثیر، جلد 5، صفحہ 389)۔ یعنی، شیطان نے مشرکوں کے کان میں یہ الفاظ ڈال دیے۔ پس مشرکوں نے گمان کر لیا کہ یہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکلا ہوا ہے ۔ حالانکہ حقیقت میں ایسا نہ تھا۔ وہ در اصل شیطان کا کلام تھا، نہ کہ رسولِ رحمان صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام۔“ یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ اس قسم کے واقعات کسی نہ کسی شکل میں ہر شخص کے ساتھ ہوتے رہتے ہیں۔ مثلاً حکمران پارٹی کا لیڈر ایک بار تقریر کر رہا تھا۔ مجمع میں اس کی پارٹی کے لوگ بھی تھے اور دوسری پارٹیوں کے لوگ بھی۔ تقریر کے دوران ایک بار لیڈر نے (بطور تنقید) مخالف پارٹی کے لیڈر کا نام لیا۔ مخالف پارٹی کے آدمیوں نے جب اپنے لیڈر کا نام سنا تو عین اسی وقت وہ ”زنده باد، زنده باد“ کے نعرے لگانے لگے۔ اب اگر کوئی شخص کہے کہ حکمران پارٹی کے لیڈر نے مخالف پارٹی کے لیڈر کے لیے زندہ باد کہا تو یہ غلط ہوگا۔ کیوں کہ حکمران پارٹی کے لیڈر نے تو اس کا نام محض تنقید کے لیے لیا تھا، یہ در اصل مخالف پارٹی کے لوگ تھے جو اس کی آواز میں اپنی آواز ملا کر زندہ باد کے الفاظ بولنے لگے۔ واقعہ کی سادہ شکل وہی ہے جو اوپر نقل کی گئی۔ مگر اسلام کے کچھ مخالفوں نے اس واقعہ کو غلط صورت دے کر ایک خود ساختہ کہانی بنائی۔ انھوں نے مشرکین کے قول کو پیغمبر کا قول دیدیا۔ اور کہا کہ پیغمبر اسلام پر سورہ النجم اتاری جارہی تھی جب اس کا سلسلہ وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى تک پہنچا تو اس کے بعد شیطان نے مذکورہ الفاظ آپ پر القاء کر دیے۔ آپ نے قرآن کی آیت کے ساتھ اس کو ملا کر مجمع میں پڑھ دیا۔ بعد کو آپ کو غلطی کا احساس ہوا تو آپ نے اعلان کیا کہ مذکورہ کلام خدا کا کلام نہیں تھا۔ وہ شیطان کا کلام تھا۔ یہ کہہ کر اس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader