غلط بیانی
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
غلط بیانی انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس (19 اکتوبر 1988) میں اس کے ایڈیٹر مسٹر آرن شوری کے قلم سے ایک تفصیلی مضمون شائع ہوا ہے۔ اس کی سنسنی خیز سرخی یہ تھی ـ مگر خود آیات کے بارے میں کیا: "But what about the verses themselves?" اس مضمون میں کئی باتیں کہی گئی ہیں۔ تاہم دوسری باتوں کو چھوڑتے ہوئے ہم اس کے صرف اس حصہ کے بارے میں کچھ عرض کریں گے جس کا تعلق براہ راست طور پر قرآن سے ہے۔ اس حصہ مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ سلمان رشدی کی کتاب شیطانی آیات (Satanic Verses) پر حکومت نے جو پابندی لگائی ہے وہ اس لیے لگائی ہے کہ وہ اس سے ایک فرقہ کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ اس منطق سے خود قرآن پر بھی پابندی لگائی جانی چاہیے کیوں کہ اس میں بھی ایسی آیتیں موجود ہیں جن سے دوسرے فرقوں کے لوگوں کے جذبات مجروح ہو رہے ہیں یا مجروح ہو سکتے ہیں۔ یہ آیتیں کیا ہیں۔ یہ آیتیں وہ ہیں جو جنگ سے تعلق رکھتی ہیں۔ ارن شوری نے اس قسم کی کچھ آیتوں کو نقل کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ قرآن اپنے ماننے والوں کو حکم دیتا ہے کہ کافروں کو مارو، انھیں قتل کرو۔ اس طرح کی آیتیں واضح طور پر غیر مسلموں کے جذبات کو مجروح کرنے والی ہیں۔ اس لیے ان کے خیال کے مطابق، خود قرآن پر بھی پابندی لگنا ضروری ہے۔ ارن شوری نے یہ بات آزادانہ تحقیق اور عقلی اظہار خیال (rational discourse) کے نام پر کی ہے۔ مگر زیادہ صحیح یہ تھا کہ وہ اس بات کو خود ساختہ الزام یا غلط بیانی (rational falsification) کا نام دیتے ۔ کیونکہ انھوں نے قرآن کی جو چند آیتیں پیش

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader