غلط بیانی
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
کی ہیں وہ سب سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کی ہیں۔ اور اس طرح ان سے ایک ایسا خود ساختہ مفہوم نکالنے کی کوشش کی ہے جو خود آیتوں کے اندر موجود نہیں۔ یہاں ہم نمونے کے طور پر ان کے پیش کردہ حوالوں میں سے دو بنیادی حوالوں کا ذکر کریں گے۔ سورہ البقرہ کی دو آیتوں کے جزئی حصہ کا ترجمہ (انگریزی میں) انھوں نے اس طرح نقل کیا ہے : اور ان کو نکالو جس طرح انھوں نے تم کو نکالا ہے، اور فتنہ قتل سے بھی زیادہ سخت ہے (2:191) اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے اور دین اللہ کا ہو جائے (2:193)۔ اس طرح جنگ سے متعلق چند آیتیں نقل کرنے کے بعد انھوں نے سورہ الاحزاب کی ایک آیت کا ترجمہ (انگریزی میں) اس طرح دیا ہے : اور کسی مومن اور مومنہ کے لیے گنجائش نہیں جب کہ اللہ اور اس کا رسول کسی کام کا حکم دیدیں کہ پھر ان کو اس کام میں اختیار باقی رہے، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کا حکم نہ مانے گا وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا (33:36)۔ اس طرح کے کچھ اقتباسات نقل کر کے مضمون میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ قرآن غیر مسلموں کو مارنے اور انھیں قتل کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اور جب خدا کا حکم آجاۓ تو قرآن کے مطابق، مومنین قرآن پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ بے چوں و چرا اس کی تعمیل کریں۔ یعنی تلوار لے کر اٹھیں اور غیر مسلموں کو ایک طرف سے مارنا شروع کر دیں۔ ارن شوری کی اس لغو تشریح کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ سراسر ایک خود ساختہ تشریح ہے جو ناقص اقتباسات کی بنیاد پر بنائی گئی ہے۔ یہ بات اس وقت نہایت آسانی سے واضح ہو جاتی ہے جب کہ مذکورہ آیات کو ان کے سیاق (context) میں رکھ کر دیکھا جائے۔ 1۔ سب سے پہلے سورہ البقرہ کو لیجیے۔ اس کے جس حصہ سے مذکورہ الفاظ لیے گئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader