غلط بیانی
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں، اس پورے حصے کا ترجمہ یہ ہے: اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑائی کرتے ہیں، اور زیادتی نہ کرو، اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور ان کو قتل کرو جہاں انہیں پاؤ اور ان کو نکالو جہاں سے انھوں نے تم کو نکالا ہے۔ اور فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے، اور ان سے مسجد حرام کے پاس نہ لڑو جب تک کہ وہ تم سے جنگ نہ چھیڑیں، پس اگر تم سے جنگ چھڑیں تو ان سے جنگ کرو، یہی سزا ہے انکار کرنے والوں کی۔ پھر اگر وہ باز آجاتیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ (persecution) باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجاتیں تو اس کے بعد سختی نہیں ہے مگر ظالموں پر ۔(2:190-193) مذکورہ آیت میں ”ان سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں“ (وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ) کے الفاظ ہیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں دفاع (defence) کا حکم دیا گیا ہے، نہ کہ جنگ کا۔ یعنی یہ کوئی مطلق یا عمومی ہدایت نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق اس ہنگامی صورت حال سے ہے جب کہ کچھ لوگوں نے جارحیت کا آغاز کر کے اہل ایمان کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہو۔ گویا کہ یہ دفاع کی آیت ہے، نہ کہ قتال کی آیت۔ آیت کے اس ٹکڑے کا صحیح انگریزی ترجمہ یہ ہوگا: "And fight in the way of God those who fight you." (2:190) اب مسٹر ارن شوری یا ان کے ہم خیال لوگ بتائیں کہ دنیا کا کون سا قانون یا کون سا بین الاقوامی رواج ہے جو دفاع کو قابل اعتراض قرار دیتا ہے۔ مسٹر ارن شوری کو اگر ہندوستان کا پرائم منسٹر بنا دیا جائے تو کیا وہ ایسا کریں گے کہ وزارت دفاع کا شعبہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں۔ کیا وہ بری، بحری اور ہوائی افواج کے تمام لوگوں کو ریٹائر کر کے گھر بھیج دیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader