غلط بیانی
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
گے ۔ ملک کے بچاؤ کے لیے جو ہتھیار جمع کیے گئے ہیں ان کو وہ بحر ہند میں پھنکوا دیں گے اور ملک میں فوجی سامان تیار کرنے کے جتنے کارخانے ہیں ان سب کو تبدیل کر کے انھیں کھیل اور تفریح کا کلب بنا دیں گے۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے اور یقیناً نہیں کریں گے تو انھیں کیا حق ہے کہ قرآن کے ایک ایسے حکم پر اعتراض کریں جو دنیا کے تمام قوانین اور تمام اقوامی رواج کے مطابق عین درست ہے اور مسلمہ طور پر ایک جائز حق ہے۔ یعنی جارحانہ کاروائی کے خلاف دفاع کا حق۔ 2_ اب دوسری سورہ (الاحزاب) کے اقتباس کو لیجیے ۔ اس آیات کا پورا ترجمہ یہ ہے : اور کسی مومن مرد یا کسی مومن عورت کے لیے گنجائش نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملہ کا فیصلہ کر دیں تو پھر ان کے لیے اختیار باقی رہے۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا (33:36)۔ سورۃ الاحزاب کی یہ آیت جس سلسلہ بیان میں آئی ہے، اس کا قطعیٰ کوئی تعلق جنگ سے نہیں ہے۔ یہ آیت دراصل ایک معاشرتی اصلاح کے ذیل میں نازل ہوئی ہے۔ اس کی تفصیل تفسیر کی کتابوں میں موجود ہے جس کا خلاصہ یہ ہے۔ مدینہ میں ایک خاتون تھیں جن کا نام زینب بنت جحش تھا۔ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن تھیں ، اور قریش کے اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 4ھ میں ان کے یہاں زید بن حارثہ کے لیے نکاح کا پیغام دیا جو ایک آزاد کردہ غلام تھے ۔ یہ بظاہر ایک نابری کا رشتہ تھا۔ چنانچہ زینب بنت جحش اور ان کے گھر والوں نے اس کو نامنظور کر دیا، خود زینب نے کہا کہ میں زید سے نسب میں بہتر ہوں : أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ حَسَبًا (تفسیر ابن کثیر ، جلد 6، صفحہ 375)۔ زینب اور ان کے گھر والے سب کے سب مسلمان تھے۔ انھوں نے حسب نسب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader