Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu book, p. 67

By Maulana Wahiduddin Khan

کے فرق کی بنیاد پر اس رشتہ کو ماننے سے انکار کیا تھا جو قرآنی اسکیم کے سراسر خلاف تھا۔ اس وقت قرآن میں یہ آیت اتری۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اسلام کی شریعت خدا کے احکام پر مبنی ہے، نہ کہ قومی اور خاندانی رواج پر۔ اگر تم واقعی اللہ اور رسول کے مومن ہو تو تمہیں وہی کرنا چاہیے جس کا حکم خدائی شریعت میں دیا گیا ہے۔ روایات بتاتی ہیں کہ اس آیت کے اترتے ہی زینب اور ان کے گھر والوں نے نخوت کو ترک کر دیا اور خدا کے حکم کے مطابق زید بن حارثہ سے نکاح پر راضی ہو گئے: فَامْتَنَعَتْ ثُمَّ أَجَابَتْ (تفسیر ابن کثیر، جلد 6، صفحہ 375)۔ اصل پس منظر کے اعتبار سے دیکھیے تو مذکورہ آیت ایک عظیم سماجی انقلاب کا عنوان ہے جب کہ تاریخ میں پہلی بار مصنوعی اونچ نیچ کو ختم کر کے حقیقی انسانی مساوات کو قائم کیا گیا۔ قرآن کی یہ آیت نہ صرف مومنین قرآن کے لیے بلکہ تمام قوموں کے لیے فخر کی آیت ہے۔ یہ آیت اس دن کو یاد دلاتی ہے جب کہ ہزاروں سال سے جکڑی ہوئی انسانیت کو جھوٹے بندھنوں سے آزادی حاصل ہوئی اور تاریخ میں نیا عمل شروع ہوا جو موجودہ زمانہ میں مساوات انسانی کے عمومی اعتراف کے مرحلہ تک پہنچا۔ آدمی کے اندر اگر اعتراف کا حوصلہ ہو اور اس کو دیکھنے والی آنکھ حاصل ہو تو وہ اس آیت میں سچی انسانیت کی روشنی دیکھے گا، مگر جو لوگ بصیرت سے محروم ہوں، ان کے لیے تو اجالا بھی ویسا ہی تاریک ہے جیسا کہ اندھیرا: گر نہ بیند بروز شیرۂ چشم تکمہ آفتاب را چہ گناہ؟ ایک مثال انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 92 سے لے کر دفعہ 106 تک ذاتی دفاع کے بارے میں ہیں۔ اس کی دفعہ 96 آدمی کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ اپنے دفاع (بچاؤ) میں لڑے۔ اگر کسی شخص پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page