Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

چند مثالیں

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

کرتے ہیں اور میرا سب وشتم کر رہے ہیں تو اس سے کیا ہوا۔ تمام انسانوں کے رب اور ساری کائنات کے مالک نے ابدی طور پر مجھے محمد کے مقام اعلیٰ پر فائز کر دیا ہے۔ پھر ان کی بے ہودہ گوئی کی پروا کرنے کی مجھے کیا ضرورت ۔ 3۔ سلمان رشدی نے اپنی کتاب میں ایک اور نہایت بے ہودہ حرکت یہ کی ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ کو نعوذ باللہ ایک بد کردار خاتون کے روپ میں دکھایا ہے۔ یہ بلاشبہ اشتعال انگیز حد تک ایک بے ہودہ بات ہے۔ کوئی مسلمان کتاب کے اس حصہ کو ٹھنڈے دماغ کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا۔ مگر یہاں بھی قابل لحاظ بات یہ ہے کہ امہات المومنین کی کردار کشی کا یہ جرم پہلی بار رشدی کی کتاب میں نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ شنیع جرم اس سے پہلے خود زمانہ رسالت میں کیا جا چکا ہے۔ دوسرے مضمون میں ہم نے تفصیل کے ساتھ لکھا ہے کہ کس طرح صفوان ابن معطل کے ایک واقعہ کو شوشہ بنا کر مدینہ کے کچھ منافقین نے یہ جھوٹا افسانہ گھڑا۔ اور اس کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذا رسائی کی۔ یہ افسانہ اس وقت اتنا زیادہ پھیلایا گیا کہ کئی مخلص مسلمان تک اس سے متاثر ہو گئے۔ ایک مہینہ تک مدینہ کی پوری فضا شرمناک افواہوں سے بھری رہی۔ یہ تکلیف دہ صورت حال صرف اس وقت ختم ہوئی جب کہ خود اللہ تعالیٰ نے مداخلت فرمائی۔ اور قرآن میں یہ اعلان کیا گیا کہ یہ افسانہ سراسر بے بنیاد ہے۔ محض جھوٹا پروپیگنڈا ہے، نہ کہ کوئی واقعی حقیقت۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2661) مگر اس وقت بھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام لوگوں کے قتل کا حکم دے دیں جو کردار کشی کی اس جھوٹی مہم میں ملوث تھے۔ کچھ صحابہ نے ایسے افراد کو قتل کرنے کی پیش کش کی۔ مگر آپ نے اس پیش کش کو قبول نہیں فرمایا۔ امہات المومنین کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page