شتم رسول کا مسئلہ
Urdu book, p. 74
By Maulana Wahiduddin Khan
کردار کشی کے ان مجرمین کو زندہ چھوڑ دیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ مدینہ میں اپنے طبعی موت مرے۔ اور اللہ تعالیٰ کے یہاں اپنے آخری حساب کے لیے پہنچادیے گئے۔ اس واقعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو اسوہ سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ مضبوط انداز میں الزام کی تردید کر کے مجرمین کو چھوڑ دیا جائے تا کہ لوگ ساری عمران کی لعنت کریں، اور پھر مکر وہ اللہ کی عدالت میں پہنچادیے جائیں تاکہ وہ اپنے خلاف ابدی لعنت کا فیصلہ سنیں اور ہمیشہ کے لیے رسوائی کے گڑھے میں پڑے رہیں۔ یہ ہے اس طرح کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ۔ اب اگر مسلمان یہ کہتے ہیں کہ سلمان رشدی کی کتاب سے ہمارے جذبات مجروح ہوئے ہیں، اور ہم تو اس کو قتل کر کے رہیں گے، تو میں کہوں گا کہ ”مسلمانوں کے جذبات کا مجروح ہونا اسلام کے قانون جرائم کی کوئی دفعہ نہیں ہے۔ مسلمان اگر اس قسم کی کاروائی کرنا چاہتے ہیں تو وہ اس کو اپنی قومی سرکشی کے نام پر کر سکتے ہیں۔ مگر اسلام کے نام پر اس قسم کا فعل کریں تو انہیں ڈرنا چاہیے کہ ایک مجرم کو سز دینے کی کوشش میں خود اپنے آپ کو اللہ کی نظر میں زیادہ مجرم نہ بنالیں۔ موجودہ حالات میں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان صرف اپنے نفس کی پیروی کر رہے ہیں، نہ کہ خدا اور رسول کی پیروی۔ تعمیل حکم یا سرکشی سلمان رشدی کے قتل کے نعرہ پر مسلمانوں نے جو دھوم مچائی، وہ حقیقتہً نفسانیت اور سرکشی تھی، نہ کہ شریعت خداوندی کی تعمیل۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس معاملہ میں وہ فقہ کی قائم کردہ حد کے اندر نہیں رہے۔ بلکہ عقل اور قانون اور شریعت ہر چیز سے آزاد ہو کر اپنے زبان اور قلم کا استعمال کرنا شروع کر دیا۔ مثال کے طور پر مسلمانوں کے ایک نمائندہ عالم کا مضمون انگریزی اخبار ٹائمس آف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader