تعمیل حکم یا سرکشی
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
انڈیا ( یکم مارچ 1989) میں چھپا ۔ پھر یہی مضمون اردو اخبارات میں نمایاں طور پر شائع ہوا۔ اس مضمون میں عبد القادر عودہ ( وفات 1954 ) کی کتاب التشریع الجنائی الاسلامی ( دار الکاتب العربی ، بیروت ) کے حوالے سے حسب ذیل باتیں کہی گئی تھیں : ہم مسلمان بین الاقوامیت پر یقین رکھتے ہیں ۔ اور ہمارا قانون ، جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے ، ہر مسلمان پر لاگو ہوتا ہے ، چاہے وہ جہاں بھی اقامت پذیر ہو۔ یہ جمہور فقہاء ( شافعی ، مالکی ، حنبلی ) کا مسلک ہے ۔ البتہ حنفیوں کا خیال ہے کہ دیار اسلام سے باہر رہنے والے مسلمان پر اسلامی سزاؤں کا اطلاق نہیں ہوگا ، کیونکہ اسلامی حکومت وہاں احکام نافذ کرنے کے قابل نہیں ہے ( التشریع الجنائی الاسلامی ، جلد 1، صفحہ 278 )۔ اس حوالہ کے ذریعہ مضمون نگار نے یہ ظاہر کرنا چاہا ہے کہ جمہور فقہاء کے نزدیک اسلامی سزا نفاذ کے لیے ” قومی سرحدوں “ کی کوئی اہمیت نہیں۔ سلمان رشدی اگر مسلم ملک سے باہر ( برطانیہ کا باشندہ ) ہے ، تب بھی اس کو وہاں جا کر قتل کیا جائے گا تو ایسا کرنا عین اسلامی ہوگا۔ مگر یہ ایک لغو بات ہے جس کا کوئی بھی فقیہ قائل نہیں۔ مذکورہ حوالہ جس کو اپنی تائید کے طور پر پیش کیا گیا ہے ، اس کا ” بین الاقوامی نفاذ سزا “ کے نظریہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اس حوالہ کا تعلق دار اسلام اور دار الحرب کی فقہی بحث سے ہے۔ اس میں اس بات کا جواب دیا گیا ہے کہ مسلمان کی جان و مال کی عصمت کا تعلق دار سے ہے یا اسلام سے۔ کتاب کے متعلقہ حصہ کا ترجمہ یہ ہے : اور مسلمان جو کہ دار الحرب میں رہتا ہے اور اس نے دار الاسلام کی طرف ہجرت نہیں کی ہے تو مالکی ، شافعی اور احمد کے نزدیک وہ دار الاسلام کے دوسرے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader