Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

تعمیل حکم یا سرکشی

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمانوں کی طرح ہے۔ اپنے اسلام کے ذریعہ وہ اپنے خون اور مال کو محفوظ کر لے گا، خواہ وہ دار الحرب میں مقیم ہو اور کتنی ہی لمبی مدت تک مقیم رہے۔ وہ جب دار الاسلام میں داخل ہونا چاہے تو اس سے روکا نہیں جائے گا۔ جب کہ ابو حنیفہ کی رائے یہ ہے کہ جو مسلمان دار الحرب میں مقیم ہو اور اس نے دار الاسلام کی طرف ہجرت نہ کی ہو وہ اسلام کے باوجود غیر معصوم ہے۔ کیونکہ ابو حنیفہ کے نزدیک عصمت کا تعلق صرف اسلام نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق دار سے ہے۔ (جلد 1، صفحہ 278) اس محولہ عبارت کا سب وشتم کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کا تعلق تمام تر دار الاسلام اور دار الحرب کے ایک خاص مسئلہ سے ہے جس کی نوعیت بالکل مختلف ہے۔ دو ملک جب ایک دوسرے سے برسرِ جنگ (at war) ہوں تو دونوں کے لیے ایک دوسرے کا جان و مال مباح ہو جاتا ہے۔ عبدالقادر عودہ نے اپنی مذکورہ کتاب میں لکھا ہے کہ حربی کا خون اس وقت جائز سمجھا جاتا ہے جب کہ وہ دار الاسلام میں اجازت کے بغیر داخل ہو جائے۔ اسی طرح مسلم اور ذمّی دونوں کا خون حربیوں کے لیے جائز ہو جائے گا جب کہ وہ دار الحرب میں اجازت اور امان کے بغیر داخل ہو جائیں۔ اگر وہ اجازت یا امان کے ذریعہ داخل ہوں تو دونوں مستامن قرار پائیں گے (التشریح الجنائی الاسلامی، جلد 1، صفحہ 278)۔ یہاں ایک سوال یہ ہے کہ وہ ملک جو دار الحرب ہو، یعنی جس کے مقابلہ میں مسلمانوں کی حالت جنگ قائم ہو۔ وہاں اگر مسلم اور غیر مسلم دونوں بستے ہیں تو کیا یہ دونوں مباح الدم قرار پائیں، یا ان میں سے کوئی ایک مباح الدم ہوگا۔ اس معاملہ میں فقہاء کی دو رائے ہے۔ ایک کے نزدیک دونوں ہی مباح الدم ہوں گے۔ کیونکہ عصمت (حفاظت جان و مال) کا تعلق "دار" کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page