تعمیل حکم یا سرکشی
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
سے ہے۔ جس ملک سے حالت جنگ قائم ہے، اس کا ہر باشندہ، خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو، جنگی قانون کے ماتحت سمجھا جائے، الّا یہ کہ وہ ہجرت کر کے دار الاسلام میں آ جائے۔ فقہاء کا دوسرا گروہ دارالحرب کے مسلم آبادی اور غیر مسلم آبادی میں فرق کرتا ہے۔ اس کے نزدیک غیر مسلم مباح الدم ہیں ، مگر مسلمان مباح الدم نہیں ۔ کیونکہ ان کے نزدیک عصمت ( حفاظت جان و مال ) کا تعلق عقیدہ سے ہے ۔ جو شخص مومن و مسلم ہے وہ اپنے عقیدہ کی بنا پر معصوم ( محفوظ) ہے، خواہ وہ دار الاسلام میں مقیم ہو یا دارالحرب میں اقامت رکھتا ہو۔ یہ ہے وہ اصل مسئلہ جو مذکورہ کتاب (صفحہ 278) میں بیان کیا گیا ہے۔ مگر اس مسئلہ کو غیر واقعی طور پر شتم رسول کے مسئلہ سے جوڑ کر یہ دعویٰ کر دیا گیا کہ شاتم کو ہر حال میں قتل کیا جائے گا، خواہ وہ سرحد کے اُس پار ہو یا سرحد کے اس پار۔ 2_ دوسری بات مذکورہ کتاب کے حوالہ سے یہ کہی گئی ہے کہ مسلمان ہونے کے ناطے سلمان رشدی اسلامی قانون کی گرفت میں آتا ہے، جو کہ ارتداد سزا موت قرار دیتا ہے۔ مزید برآں اگر اسلامی حکومت یہ سزا نافذ نہ کر سکے تو کوئی بھی مسلمان اس مجرم کے اوپر نافذ کر سکتا ہے۔ (جلد 1، صفحہ 535) اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص ہندوستان یا پاکستان سے چل کر انگلینڈ جائے اور وہاں اپنے ذاتی فیصلہ کے تحت گولی مار کر سلمان رشدی کو ہلاک کر دے تو اس کا یہ فعل عین شریعت ( فقہ ) کے مطابق ہوگا۔ مگر اس نظریہ کی تائید میں جو حوالہ نقل کیا گیا ہے، اس سے ہرگز یہ بات ثابت نہیں ہوتی۔ عبدالقادر عودہ کی کتاب کا مذکورہ اقتباس سب وشتم کے بارے میں نہیں ہے بلکہ ارتداد کے بارے میں ہے۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ : اصل یہ ہے کہ مرتد کا قتل اقتدار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader