تعمیل حکم یا سرکشی
Urdu book, p. 78
By Maulana Wahiduddin Khan
اور حکومت کا معاملہ ہے۔ اب اگر کوئی فرد حکومت کی اجازت کے بغیر مرتد کو قتل کر دے تو اس پر اس کی گرفت کی جائے گی، بذاتِ خود عمل قتل کی بنا پر نہیں۔ یہی رائے مذاہب اربعہ کے فقہاء کی ہے۔ البتہ مالکی مذہب ایک مختلف رائے رکھتا ہے۔ اس کے علماء کا خیال ہے کہ مرتد غیر معصوم ہے۔ مگر ان کی بھی اسی کے ساتھ یہ رائے ہے کہ قاتل کی تعزیر کی جائے گی اور اس کی دیت بیت المال سے ادا کی جائے گی۔ (جلد 1، صفحہ 535) عبد القادر عودہ کی مذکورہ عبارت مرتد کے بارے میں ہے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ وہ اصولاً اس کو درست نہیں قرار دیتے کہ کوئی شخص ذاتی طور پر کسی مرتد کے اوپر اسلامی سزا کا نفاذ کرے۔ البتہ اگر اتفاقاً کوئی شخص ایسا کر گزرے تو اس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ قانوناً قاتلِ عمد نہیں قرار دیا جائے گا۔ اس مسئلے کو ناقص اور غلط شکل میں پیش کر کے کہہ دیا گیا کہ کوئی شخص اگر انگلینڈ جا کر بطور خود سلمان رشدی کو قتل کر دے تو عین شرعی اور اسلامی فعل ہوگا۔ یہ بلاشبہ سرکشی ہے، نہ کہ اسلام۔ یہ صحیح ہے کہ فقہاءِ اسلام کی اکثریت اس رائے پر ہے کہ شاتمِ رسول کی سزا قتل ہے۔ مگر یہ کوئی استثنائی سزا نہیں ہے جس کی کوئی شرط نہ ہو۔ دوسری اسلامی سزاؤں کی طرح اس کے نفاذ کی بھی کچھ لازمی شرائط ہیں۔ ان شرطوں کی تکمیل کے بغیر اس کا نفاذ ہرگز درست نہیں۔ عام اصولِ شریعت کے مطابق، سب سے پہلے یہ ثابت کیا جائے گا کہ واقعی شتم کا فعل سرزد ہوا ہے۔ اس ثبوت کی فراہمی کے بعد ایک با اختیار حکومتی ادارہ اس سزا کو مجرم کے اوپر نافذ کرے گا۔ مزید یہ کہ یہ نفاذ صرف اسلامی حکومت کے حدود میں کیا جائے گا، اسلامی حکومت کے حدود سے باہر ہرگز نہیں۔ اس معاملے میں فقہاء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے پرجوش مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ تمام حدود و شروط سے آزاد ہو کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader